سامیہ ہلاکت کیس تاحال حل نہ ہوسکا

شائع 01 اگست 2016 05:43pm

جہلم :سامیہ کی پرسرار ہلاکت کا معاملہ تاحال حل نہ ہوسکا ۔ جہلم میں ہلاک ہونے والی پاکستانی نژاد برطانوی خاتون کے والد نے بیان دیا ہے کہ سامیہ نے خود کشی کی، پچیس برس قبل سامیہ کی پھوپھی نے بھی اپنے شوہر سے طلاق لی تھی، اور وہ بھی بالکل اسی طرح پراسرار طور پر مردہ پائی گئی تھی، اسوقت بھی چوہدری شاہد نے پولیس کو یہی بیان دیا تھا کہ اسکی بہن نے خود کشی کی ہے۔

جہلم کا سامیہ قتل کیس ہر گزرتے دن کے ساتھ پیچیدہ  ہوتا جارہا ہے،سامیہ کے والد چوہدری شاہد کے سامیہ کی خودکشی کرنے کے بیان نے ماضی کے دریچے کھول دیے۔

ذرائع کے مطابق چوہدری شاہد نے بالکل اسی طرح کا بیان پچیس برس پہلے بھی دیا تھا،اس خاندان میں سامیہ پہلی خاتون نہیں جسکی طلاق کے بعد پراسرار موت ہوئی ہے۔پچیس سال قبل سامیہ کی پھوپھی یعنی چوہدری شاہد کی بہن نے بھی طلاق لی تھی جسکے بعد وہ بھی پراسرار طور پر مردہ پائی گئی تھی۔

اہم بات یہ ہے کہ اسوقت بھی چوہدری شاہد نے اپنی بہن کی موت کو خودکشی قراردیا تھا۔ سامیہ کیس میں چوہدری شاہد نے پولیس کو درخواست دی تھی کہ ایف آئی اے درج نہ کی جائے،دوسری جانب پولیس ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ سامیہ کا سابق شوہر شکیل کا ماضی میں جرائم کا ریکارڈ ہے۔

چوہدری شکیل نے جائیداد کے تنازع پر ایک شخص کو فائرنگ کر کے زخمی کردیا تھا۔پولیس ذرائع کے مطابق لاہور لیبارٹری سے بدھ کے روز سامیہ کے ڈی این اے ٹیسٹ اور دیگر اعضاء کی رپورٹ آجائے گی، جسکے بعد مزید انکشافات کی توقع ہے۔

Read Comments