نیب :بلوچستان خزانہ اسکینڈل،تین ملزمان کا اعتراف جرم

شائع 03 اگست 2016 04:54pm

کوئٹہ :بلوچستان خزانہ اسکینڈل میں اہم پیشرفت سامنے آگئی۔ تین اہم ملزمان نے اعتراف جرم کرلیا۔ بدعنوانی کے ذریعے بنائے گئے اثاثوں سے دستبردار ہوگئے اور ساتھ ہی اپنے سہولت کاروں کے نام بھی بتادیئے۔ جن میں اہم عہدوں پر فائز کئی بڑی شخصیات بھی شامل ہیں۔ اب نیب کی جانب سے متعدد اہم گرفتاریوں کا امکان ہے۔

سات مئی دوہزار سولہ کو نیب نے سابق سیکریٹری خزانہ مشتاق رئیسانی کے گھر پر چھاپا مارا۔جسکے بعد بلوچستان کی تاریخ کا سب سے بڑا کرپشن اسکینڈل سامنے آیا۔نیب چھاپے کے نتیجے میں مشتاق رائیسانی کے گھر سے کرنسی نوٹس، پرائز بانڈز، اور سونے پر مشتمل ساٹھ کروڑ روپے کی کرپشن کی تجوری کھل گئی۔

اسکینڈل سامنے آنے کے بعد نیب نے مشتاق رئیسانی، سابق مشیر خزانہ خالد لانگو سمیت متعدد افراد کو گرفتار کرلیااور ملک کے مختلف شہروں میں بھی کارروائیاں شروع  ہوئیں،ان کارروائیوں کے باعث کہیں بیکری سے نوٹ نکلے۔توکہیں بڑے بڑے بنگلوں کا ریکٹ سامنے آیا۔

تازہ ترین پیشرفت میں تین گرفتار ملزمان نے اعتراف جرم کرلیا۔ان افراد میں ایکسئین قلات طارق نوشیروانی، سلیم شاہ اور ندیم اقبال شامل ہیں۔ملزمان نے اپنا  ایک سو چونسٹھ کا اقبالی بیان کوئٹہ میں مجسٹریٹ کے سامنے ریکارڈ کرایا۔کرپشن میں ملوث دیگر کرداروں اور سہولتکاروں کو بھی بے نقاب کیا۔

سہولتکاروں کے خلاف عدالت کو ٹھوس شواہد فراہم کئے۔ملزمان اپنے  پچاس کروڑ کے اثاثوں اور بینک اکاؤنٹس سے بھی دستبردار ہوئے۔انہوں نے درجن سے زائد کرپٹ سرکاری افسران کی نشاندہی کی ہے،جن میں اہم عہدوں پر فائز بیوروکریٹس بھی شامل ہیں جسکے بعد تینوں کو رضاکارانہ طور پررہا کردیا گیا۔

ذرائع کے مطابق ملزمان کی نشاندہی  پر عنقریب اہم افراد کی گرفتاری عمل میں آئے گی۔

Read Comments