Subscribing is the best way to get our best stories immediately.
کراچی:کراچی بے امنی کیس میں چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس انور ظہیر جمالی کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی اقدامات صرف کاغذوں پر ہوتے ہیں، موثر قدم نہ اٹھایا گیا تو سانحات ہوتے رہیں گے۔
کراچی بے امنی عملدرآمد کیس کی سماعت چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں 5رکنی بنچ نے کی،چیف سیکریٹری سندھ اور دیگر حکام نے سی سی ٹی وی کیمروں سے متعلق رپورٹ عدالت میں پیش کی۔
آئی جی سندھ نے عدالت کو بتایا کہ نئے کیمروں کی تنصیب کے لئے سندھ حکومت تجاویز تیار کررہی ہے،چیف سیکریٹری نے عدالت سے جدید کمیروں کی تنصیب کے لیئے مہلت کی استدعا کی۔
جسٹس انور ظہیر جمالی نے ریمارکس دیے کہ نئے ٹھیکوں میں غیر شفافیت برداشت نہیں کی جائے گی،وفاقی و صوبائی اداروں نےا پنی ذمہ داریاں ادا نہیں کیں، اس لئے معاملات ہمیں دیکھنے پڑے۔
سماعت کے دوران جسٹس امیرہانی مسلم نے کہا کہ کیمروں کے لیے این ٹی آر سی سے مدد لی جائے۔
جس پر چیف سیکریٹری نے عدالت کو بتایا کہ نئے کیمروں کے لئے دس ارب روپے مختص کئے گئے ہیں،چیف سیکریٹری کے بیان پر چیف جسٹس بولے کہ اصل مسئلہ رقم مختص کرنے کا نہیں بلکہ رقم کو درست جگہ استعمال کرنے کا ہے۔
سماعت کے دوران اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ اویس شاہ اغوا کیس میں چار پولیس افسران کے خلاف کارروائی کی جارہی ہے۔سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ جلد کارروائی مکمل کرکے رپورٹ دیں گے۔
اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ سندھ پولیس کو چھ ماہ میں جی اسی ایم لوکیٹرز فراہم کردیئے جائیں گے۔
جس کے بعد عدالت نے سندھ پولیس کو جیو فینسگ کی سہولت اور جی ایس ایم لوکیٹرز کی فراہمی کے لیئے مہلت دے دی۔مقدمے کی سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی گئی ہے۔