Subscribing is the best way to get our best stories immediately.
اسلام آباد:سائبر کرائم بل کو ملک میں نافذ قانون بنانے کیلئے پارلیمنٹ سے منظوری کا عمل مکمل ہوگیا،کثرت رائے سے منظوری دیدی۔
سائبر کرائم بل میں ضابطہہ فوجداری کے تحت اکتیس جرائم واضح کیئے گئے ہیں، بل کے تحت کسی بھی معلوماتی نظام یا کمپیوٹر ڈیٹا تک غیرقانونی رسائی، اسکی ترسیل، مداخلت پر تین ماہ سے دو سال تک قید اور ایک لاکھ روپیہ تک جرمانہ ہوگا۔
کمپیوٹر کے بنیادی ڈھانچے تک غیرقانونی رسائی ، اسکی نقل کرنے اور مداخلت کرنے پر تین سے سات سال تک قید ہوگی، دہشت گردوں ، کالعدم تنظیموں اور سنگین جرائم کی تشہیر پر سات سال قید اور ایک کروڑ روپے تک جرمانہ ہوگا۔
خوف و ہراس کی کوشش ، مذہبی اور فرقہ ورانہ فساد کو سائبر دہشت گردی قرار دیا گیا ہے، جس پر عمر قید تک کی سزا ہوگی، دہشت گردی میں معاونت اور منصوبہ بندی بھی قابل سزا جرم قرار دیئے گئے ہیں۔
برقی دھوکہ دہی پر دو سال تک قید ہوگی، سائبر جرائم کیلئے آلات فراہمی پر چھ ماہ تک قید ہوگی، کسی شخص کی شناختی معلومات کو بلامجاز لینا جرم قرار دیاگیا ہے، کسی فون یا ڈیٹا سم کارڈ کے غیرمجاز اجراء پر تین سال تک قید ہوگی، فون، وائرلیس میں ردوبدل جرم ہوگا، کسی کے ساتھ فحش تصاویر یا ویڈیو کی اشاعت کرنے پر پانچ سال تک قید ہوگی۔
کسی نابالغ مجرم کو پہلی بار سات سال تک اور دوسری بار جرم پر دس سال تک سزا ہوسکے گی، کمپیوٹرنظام سے کسی کی نگرانی یا جاسوسی کرنا ، بغیر اجازت تصویر کشی پر بھی سزا ہوگی، بدنیتی سے ویب سائٹ قائم کرنا بھی قابل سزا جرم قرار دیا گیا ہے۔