راشد منہاس  کا 45واں یوم شہادت آج منایاجارہاہے

شائع 20 اگست 2016 10:34am

وطن پر جان قربان کرنے والے کم عمرترین پائلٹ آفیسرراشد منہاس شہید کا 45واں یوم شہادت آج منایاجارہاہے۔ راشد منہاس کا جذبہ قربانی آج بھی نوجوانوں کے لئے مشعل راہ ہے۔

تیرہ مارچ 1971 کو پاک فضائیہ میں کمیشن حاصل کرکے 51 ویں جی ڈی پائلٹ کورس میں شرکت کرنے والے بیس سالہ نوجوان راشد منہاس نےاسی برس20 اگست کو وطن پر اپنی جان کچھ اس انداز سے نثار کی جس کی تاحال مثال ملنا مشکل ہے۔

بیس اگست 1971 کی دوپہرراشد منہاس اپنے ٹی تھری تھری جیٹ طیارے میں مشاق پروازپرتھے،طیارہ نے اڑان بھرنے کے لیے مسرورایربیس ماڑی پورکے رن وے پر دوڑنا شروع ہی کیا تھا، جب ہی ان کے ٹرینر بنگالی نژاد مطیع الرحمان نے طیارے کو رکنے کا سگنل دیا اور طیارے میں زبردستی سوار ہوکر اس کا رخ بھارت کی جانب کر دیا۔

منہاس نے ریڈیو پر کنٹرول ٹاورکو طیارے کی ہائی جیکنگ کی اطلاع دی، طیارہ اس وقت ٹھٹھہ کے اوپر پرواز کر رہا تھا، کوئی حل نا ملا تو کم عمر راشد منہاس نے کاک پٹ ہی میں اپنے انسٹرکٹر مطیع الرحمان سے دست بدست لڑائی شروع کردی، اور دشمن کی ناپاک سرزمین پر اترنے کے بجائے پاک سرزمین سے ہی طیارہ ٹکرا کر اپنی جان کا نذرانہ پیش کردیا۔

 طیارہ بھارتی سرحد سے32 کلومیٹر دور ٹھٹھہ کے قریب گرا ، راشد منہاس شہید ہوکر امر ہوگئے جبکہ غدارمطیع الرحمان مارا گیا۔

اپنی مٹی سے وفاداری نبھانے پر راشد منہاس ملک کے سب سے بڑے فوجی اعزاز نشان حیدر کے حقدار قرار پائے۔

آج کے دن پوری قوم اپنے شہید کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کرتی ہے کہ دشمن باہر کا ہو یا اندر کا ، وطن عزیز کے دفاع کے لئے قوم کا بچہ بچہ راشد منہاس ثابت ہوگا ۔

Read Comments