کراچی پریس کلب کے باہر فائرنگ،متحدہ کارکنان میں اشتعال

اپ ڈیٹ 22 اگست 2016 01:51pm

کراچی: کراچی پریس کلب کے اطراف پولیس کی ہوائی فائرنگ اور متحدہ کے مشتعل کارکنان کے درمیان تصادم کے دوران ایک شخص ہلاک اور پانچ زخمی ہوگئے جبکہ علاقے میں شدید کشیدگی پھیل گئی ہے۔

کراچی پریس کلب کے اطراف فائرنگ کی گئی ہے جس کے بعد ایم کیو ایم کے کارکنان کے درمیان اشتعال پایا جاتا ہے ۔

یہ ہوائی فائرنگ پولیس کی جانب سے متحدہ کے ہڑتالی کیمپ کے اطراف کارکنان کو منتشر کرنے کیلئے کی گئی ہے جبکہ مشتعل افراد نے زیب النساء اسٹریٹ کے اطراف میں توڑ پھوڑ کی ہے اور مارکیٹ کو بھی بند کرادیا گیا ہے۔

مشتعل افراد کی جانب سے ہنگامہ آرائی اور پولیس کی ہوائی فائرنگ کے دوران ایک شخص ہلاک اور پانچ افراد زخمی ہوگئے ہیں۔ زخمیوں کو طبی امداد کیلئے ہسپتال منتقل کردیا گیا ہےجبکہ  صحافیوں کو بھی فوٹیجز بنانے سے روکنے کی کوشش کی گئی ہے۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے آئی جی سندھ کو ٹیلی فون کیا ہے۔جس میں انہوں نے شرپسندوں کیخِلاف سخت کارروائی کی ہدایت کی ہے اور نجی چینل کے دفتر کو مکمل سیکیورٹی فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ کشیدہ صورتحال کے باعث شاہراہ فیصل پر شدید ٹریفک جام ہوگیا ہے اور مسافروں کو آمدورفت میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
واضح رہے کہ متحدہ کی جانب سے  کراچی پریس کلب کے باہر ہڑتالی کیمپ قائد الطاف حسین کی تقریر دکھانے پر پابندی سمیت دیگر مطالبات کے حق میں لگایا گیا ہے،تاہم متحدہ کارکنان کے درمیان یہ  گلہ پایا جاتا ہے کہ اس کیمپ کو اہمیت نہیں دی جارہی ہے ،جس کے بعد پولیس اور متحدہ کے مشتعل کارکنان کے درمیان یہ تصادم ہوا ہے۔

Read Comments