Subscribing is the best way to get our best stories immediately.
اسلام آباد:سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں سے سزائے موت پانے والے دہشت گردوں کی اپیلیں ناقابل سماعت قراردیتے ہوئے خارج کردیں ۔
سپریم کورٹ کے 5رکنی لارجربینچ نے فوجی عدالتوں کے فیصلوں کے خلاف 17درخواستوں پرفیصلہ دے دیا ۔ 182صفحات پر مشتمل فیصلہ چیف جسٹس انورظہیرجمالی نے پڑھ کرسنایا ۔
سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں سے سزائے موت کے فیصلے کو برقراررکھا اور تمام دہشت گردوں کی اپیلیں خارج کردیں۔فیصلے میں کہا گیاکہ غیرمعمولی حالات کے باعث پارلیمنٹ نے 21ویں ترمیم منظور کی ۔ اورآرمی ایکٹ میں بھی ترمیم کی گئی ۔ ریکارڈ سے پتا چلتا ہے کہ فوجی عدالتیں آرمی ایکٹ کے مطابق قائم کی گئی ہیں ۔
فیصلے میں کہا گیا کہ مقدمات میں کوئی بے قاعدگی اورلاقانونیت نہیں پائی گئی ، ملزمان کے حقوق کا تحفظ کیا گیا یہ مقدمہ ناکافی شہادتوں کا نہیں ہے۔
فوجی عدالتوں سے سزا پانے والے دہشت گرد آرمی پبلک اسکول، بنوں جیل، پریڈ لائن ، فوجی قافلوں اور چوکیوں سمیت دیگرحملوں میں ملوث تھے۔
حیدر علی، قاری ظاہرگل، قاری زبیر، عتیق الرحمان، تاج محمد، اقسن محمود، فتح محمد، شیرعالم، محمد عربی، فیض محمد، طاہر محمود، سعید الزماں ، محمد غوری ، فضل غفار، اورسخی محمد شامل ہیں ۔جنہوں نے سزائے موت کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواستیں دائر کی تھی ، عدالت نے 20 جون کودرخواستوں پرفیصلہ محفوظ کیا تھا۔