ٹی او آرز کمیٹی کی ناکامی، ذمے داری اپوزیشن پر عائد

شائع 02 ستمبر 2016 05:08pm

اسلام آباد:وزیرخزانہ اسحاق ڈار  نے کہا ہے کہ اگر اپوزیشن سینٹ میں اپنا بل جمع نہ کرواتی تو  ٹی او آرز کمیٹی کا اجلاس ہوسکتا تھا،  حزب اختلاف جلدی میں اس لئے ہے کہ انہیں خوف ہے ملک بہتری کی جانب جا رہا ہے ۔

اسلام آباد کے پنجاب ہاوس میں حکومتی وزراء اور اتحادیوں نے مشترکہ نیوزبریفنگ دی، سینیٹر اسحاق ڈارنے پانامہ تحقیقات پر ٹی او آر کمیٹی کے بے نتیجہ رہنے کی ذمہ داری اپوزیشن پر عائد کی اور کہاکہ ایسے نئے تحقیقاتی قانون کی ضرورت ہے جو صرف پاناما تک محدود نہ ہو۔

ان کا کہنا تھا کہ  انکوائری کمیشن کیلئے حکومت کا قانونی بل سب کا محاسبہ کرتا ہےجبکہ اپوزیشن کا بل ایک خاندان اور شخصیت تک محدود ہے۔

وزیر قانون کا کہنا ہے کہ حکومتی بل میں تمام ادارے تحقیقات کیلئے انکوائری کمیشن کی معاونت کے پابند ہوں گے ، کمیشن کو غیرملکی حکومت اورایجنسیوں سے معاونت کا اختیاربھی ہوگا۔

حکومتی اتحادیوں کا کہناتھا کہ ٹی اوآر کمیٹی میں اپوزیشن کے رویئے سے مایوسی ہوئی، وہ کمیٹی میں کچھ اور باہر کوئی اور بات کرتی تھی،حزب اختلاف نے تو وزیراعظم کومجرم بھی قراردے دیا۔

حکومت کا موقف تھاکہ پانامہ پیپرز میں وزیراعظم کا نام تو شامل نہیں جبکہ اپوزیشن اپنے مجوزہ بل میں اپنے ان لوگوں کو استثنی دلوانا چاہتی ہے جن کے نام اس اسکینڈل میں ہیں۔

Read Comments