Subscribing is the best way to get our best stories immediately.
لاہور:پنجاب کے آٹھ سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر نئے بلاکس اور شعبہ جات کی تعمیر تو کردی گئی مگر کئی سالوں سے کام شروع نہ ہوسکا۔محکمہ صحت کینسر ہسپتال بھی تاحال مکمل نہیں ہوا۔مریضوں کے ساتھ ساتھ ڈاکٹروں کی مشکلات میں بھی اضافہ ہوگیا۔لاہور کے ہسپتال میں نیا ڈیپارٹمنٹ بھی بن گیا اور نئے بلاک کی تعمیر بھی مکمل ہوگئی مگر فعال نہ ہونے کے باعث کسی مریض کو طبی سہولیات فراہم نہ ہوسکیں ۔لاہور کے میو ہسپتال میں سرجیکل ٹاور،جنرل ہسپتال کا نیروسرجری ڈیپارٹمنٹ،جناح ہسپتال کا برن یونٹ، چلڈرن اور سروسز کا آوٴٹ ڈور ڈیپارٹمنٹ تین سال بعد بھی فعال نہ ہوسکا۔ کینسر کئیر ہسپتال کا پراجیکٹ فنڈز کی کمی کے باعث اڑھائی سال سے رائیونڈ روڈ پر تکمیل کے مراحل سے گزر رہا ہے۔ سرکاری ہسپتالوں کی ایمرجنسی اور آوٴٹ ڈور میں مریضوں کے رش سے طبی سہولیات کا حصول ناممکن ہوگیا ہے مریضوں کا کہنا ہے کہ حکومت بلاکس کی تعمیر مکمل کرکے طبی سہولیات فراہم کرے۔کہیں پندرہ کروڑ تو کہیں نو ارب کا پراجیکٹ محکمہ صحت پنجاب کی عدم توجہ اور غفلت کے باعث صحت کی سہولتوں کے مزید فقدان کا باعث بن رہے ہیں۔
لاہور:پنجاب کے آٹھ سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر نئے بلاکس اور شعبہ جات کی تعمیر تو کردی گئی مگر کئی سالوں سے کام شروع نہ ہوسکا۔محکمہ صحت کینسر ہسپتال بھی تاحال مکمل نہیں ہوا۔مریضوں کے ساتھ ساتھ ڈاکٹروں کی مشکلات میں بھی اضافہ ہوگیا۔
لاہور کے ہسپتال میں نیا ڈیپارٹمنٹ بھی بن گیا اور نئے بلاک کی تعمیر بھی مکمل ہوگئی مگر فعال نہ ہونے کے باعث کسی مریض کو طبی سہولیات فراہم نہ ہوسکیں ۔لاہور کے میو ہسپتال میں سرجیکل ٹاور،جنرل ہسپتال کا نیروسرجری ڈیپارٹمنٹ،جناح ہسپتال کا برن یونٹ، چلڈرن اور سروسز کا آوٴٹ ڈور ڈیپارٹمنٹ تین سال بعد بھی فعال نہ ہوسکا۔ کینسر کئیر ہسپتال کا پراجیکٹ فنڈز کی کمی کے باعث اڑھائی سال سے رائیونڈ روڈ پر تکمیل کے مراحل سے گزر رہا ہے۔
سرکاری ہسپتالوں کی ایمرجنسی اور آوٴٹ ڈور میں مریضوں کے رش سے طبی سہولیات کا حصول ناممکن ہوگیا ہے مریضوں کا کہنا ہے کہ حکومت بلاکس کی تعمیر مکمل کرکے طبی سہولیات فراہم کرے۔
کہیں پندرہ کروڑ تو کہیں نو ارب کا پراجیکٹ محکمہ صحت پنجاب کی عدم توجہ اور غفلت کے باعث صحت کی سہولتوں کے مزید فقدان کا باعث بن رہے ہیں۔