Subscribing is the best way to get our best stories immediately.
لاہور:پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ طاہرالقادری کی آگ لگنے کی پیشگوئی حسن اتفاق سے پوری ہوگئی۔علامہ صاحب نے کہا تھا کہ بھارتی جاسوسوں کی موجود گی کا ریکارڈ آگ لگا کر ختم کردیا جائے گا،شاید اس شعلہ بیانی کے شرارے لاہور سے چنیوٹ پہنچ گئے جسکے بعد رمضان شوگر مل میں آگ لگ گئی۔
تان سین کے راگ پر پانی میں آگ لگنے کی کہانیاں تو سب نے سنی ہوں گی،لیکن ممبر خطابت پر کی گئی شعلہ بیانی سے کسی شوگر مل میں آگ لگنے کا واقعہ پہلی بار ہوا۔
علامہ طاہر القادری نے لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئےالزام لگایا کہ شریف برادران کی شوگر ملوں میں تین سو بھارتی کام کرتے ہیں، جو ملکی سالمیت کیلئے خطرہ ہے۔ طاہرالقادری نے پیشگوئی کہ انکی اس پریس کانفرنس سے کئی جگہ آگ لگ جائے گی۔اب یہ حسن اتفاق تھا، یا کوئی حادثہ یا پھر کوئی سازش کہ اس خطاب کے فورا بعد ہی رمضان شوگر مل شعلوں میں گھر گئی۔
چنیوٹ میں واقع اس مل میں پلاسٹک مٹیریل نے آگ پکڑ لی۔اسکا فوری طورپرطاہرالقادری نے کریڈٹ لیتے ہوئے کہا کہ آگ لگنے سے انکی بات کی تصدیق ہوگئی۔اسکے ساتھ ہی انہوں نے دوسری پیشگوئی کردی کہ واہگہ بارڈر پر بھی بھارتیوں کاریکارڈ جلایا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ حکمرانوں اور وزراء کو گرفتار نہ کیا گیا تو بھارتیوں کے تمام ریکارڈ جل جائیں گے۔