Subscribing is the best way to get our best stories immediately.
ایف آئی اے، نیب اور اسٹیٹ بنک نے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو بتایاہےکہ وہ پانامہ پیپرز کی تحقیقات کرنے کی پوزیشن میں نہیں، ایف بی آر کا کہناہےکہ اسکی تحقیقات ابتدائی مرحلے میں ہیں جبکہ ایس ای سی پی نے انکشاف کیاکہ نیم سرکاری اداروں کے چھتیس ڈائریکٹر کے نام پانامہ سے نکلے ہیں۔
خورشیدشاہ کی زیرصدارت پی اے سی کا اجلاس ہوا تو سیکرٹری قانون نے رائے دی کہ قواعد کے تحت پانامہ ایشو، پی اے سی کا نہیں بنتا ، چیئرمین کمیٹی نے انکی رائے مسترد کردی اور کہاکہ پتہ چلنا چاہیئے کہ آف شور کمپنیوں میں کہاں سے پیسہ آیا، شیخ رشیداحمد نے سیکریٹری قانون پر تنقید کی اور واک آؤٹ بھی کیا۔
ایف بی آر نے بتایاکہ پانامہ پیپرز کے ناموں والوں کو نوٹس بھیجے ہیں، جواب آنے پر ٹیکس ڈیٹا سے موازنہ کرینگے، نیب کا کہناتھاکہ دیگراداروں نے شواہد دیئے تو ہی وہ پاناما پر تحقیقات کرسکے گا۔
اسٹیٹ بنک نے بتایاکہ پاکستان میں دوسو پچاس آف شور کمپنیاں قانونی سرمایہ کاری کررہی ہیں، ان میں دس کے نام پانامہ میں ہیں، ایف آئی اے نے کہاکہ پاناما پر کسی ادارے نے معلومات کا تبادلہ نہیں کیا، ایف آئی اے عوامی نمائندوں کے خلاف کارروائی نہیں کرسکتی، ایس ای سی پی نے بتایاکہ مختلف پبلک لمیٹڈ کمپنیوں کے چھتیس ڈائریکٹرز کے نام پانامہ میں نکلے ہیں۔
کمیٹی اجلاس میں شیخ روحیل اصغر اورعارف علوی کے درمیان جبکہ میاں منان اور شیخ رشید میں نوک جھوک ہوتی رہی، مسلم لیگیوں نے کہا کہ شوربرداشت نہیں تو جواب ملاکہ ڈنڈا بردار والی بات یہاں بھی ہورہی ہے ۔
مخالفین نے اسحاق ڈار کیخلاف انکوائری کا معاملہ اٹھایا تو جواب میں سرے محل کا ذکر بھی ہوا۔کمیٹی کا آئندہ اجلاس ایک ماہ بعد ہوگا۔