Subscribing is the best way to get our best stories immediately.
اسلام آباد:سپریم کورٹ نے حکومت کو7نومبر تک وفاقی اسپتالوں کے سربراہان کی تقرری کا حکم دے دیا۔
سپریم کورٹ میں وفاقی اسپتالوں کے انتظامی سربراہان کی تقرری سے متعلق کیس کی سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے کی۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ 5 ہفتے دے رہے ہیں، اس دوران سربراہان کی تقرری کو یقینی بنائیں،بڑے بڑے ادارے سربراہان کے بغیر کس طرح چل رہے ہیں۔
آخر حکومتی ناکامی کی وجہ کیا ہے،ایڈہاک ازم کے کلچر کو کیوں فروغ دیا جا رہا ہے، صحت کے اداروں سے عوام کے بنیادی حقوق وابستہ ہیں۔
جسٹس امیر ہانی مسلم نے کہا کہ کیا اسپتالوں کے ایڈمنسٹریٹر اورایگزیکٹو ڈائریکٹرزکی تعیناتی کیلئے عدالتی مداخلت ضروری ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ دل کے ڈاکٹر کو انتظامی کام سونپ دیئے گئے، میرٹ پر سربراہان کی تقرری کیلئے کتنا وقت چاہئے۔
اٹارنی جنرل اشتراوصاف نے استدعا کی کہ تقرریوں کیلئے دو ماہ کا وقت دے دیں۔
جسٹس امیر ہانی مسلم نے کہا کہ اسپتالوں میں لوگ مر رہے ہیں آپ کو 2 ماہ چاہئیں۔
سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کو اسپتالوں کے سربراہان کی7 نومبر تک تقرری کا حکم دے دیا۔