Subscribing is the best way to get our best stories immediately.
اسلام آباد:بھارتی جارحیت اور مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کیخلاف پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس جاری ہے ۔ اجلاس سے وزیراعظم نواز شریف نے خطاب کیا ۔
وزیراعظم نے اپنے خطاب میں کہا کہ اقوام متحدہ میں کشمیر سے متعلق قراردادیں سیکیورٹی کونسل کے ایجنڈے میں شامل ہیں۔ انہوں نے اپنے خطاب میں عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اس مسئلے کے حل کیلئے فوری اقدامات کرے۔ وزیراعظم نے خطاب میں کشمیر کے مسئلے کو آتش فشاں قرار دیا۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے کہا کہ مسئلہ کشمیر پر کوئی سمجھوتا نہیں ہوگا۔
خورشید شاہ نے یہ سوال بھی پوچھا کہ مسئلہ کشمیر پر ہماری پالیسی کمزور کیوں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاک بھارت جنگیں کشمیر کی وجہ سے ہوئیں تاہم جنگوں سے کبھی مسائل حل نہیں ہوتے۔
خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر تاشقند میں حل ہوسکتا تھا ۔اس موقعے پر افغانستان سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ اس کیلئے ہم نے اپنی معیشت تباہ کردی۔ خورشید شاہ نے اپنی تقریر میں وزیرخارجہ کی تعیناتی پر بھی زور دیا۔
اجلاس سے جمعیت علمائے اسلام کے امیر مولانا فضل الرحمان نے بھی خطاب کیا ۔اپنے خطاب میں انہوں نے نے کہا کہ نوے روز سے کشمیر میں کرفیو نافذ ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ پاکستانی وزیراعظم کو کشمیری عوام احترام کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس مسئلے پر او آئی سی کا اجلاس بھی بلایا جائے۔ مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ پوری قوم پاک فوج کے ساتھ کھڑٰی ہے۔انہوں نے مشرف حکومت کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ کشمیر سے متعلق مشرف حکومت کی پالیسی غلط تھی۔