Subscribing is the best way to get our best stories immediately.
اسلام آباد:کشمیر کے موضوع پر بلائے گئے پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس ، روایتی سیاسی تنازعات اور الزام تراشیوں کا بھی شکار رہا،اجلاس میں سینیٹرمشاہداللہ کی تقریر کے دوران ایوان کا ماحول تلخ ہوگیا اور اپوزیشن نے بائیکاٹ کی دھمکی بھی دیدی۔
ایک دن پہلے بلاول بھٹو زرداری کے اس بیان کی بازگشت آج مشترکا اجلاس میں سنائی دی جس میں میاں نوازشریف کے جیل جانے کا امکان ظاہر کیا گیا تھا۔ پارلیمنٹ کے اجلاس میں مسلم لیگ ن کے مشاہداللہ نے کہا کہ اگلا الیکشن ن لیگ جیتی تو وزیراعظم، نواز شریف ہی ہوں گے اور پھر جیل میں کون ہوگا؟ لاڑکانہ کے ترقیاتی فنڈز سے متعلق سینیٹر مشاہد اللہ نے کہا کہ وہاں پر اکیانوے ارب نظر نہیں آتے،دوہزار اٹھائیس میں بھی ان کا وزیراعظم نہیں آتا۔
اجلاس کی کارروائی کے دوران خورشیدشاہ جوش میں آگئے اور کہاکہ یاد رکھیں ایک جماعت مشترکہ اجلاس میں نہیں آئی، وہ اسلام آباد کو بھی بند کرنا چاہتی ہے، کیوں حکومت خود سے دشمنی کررہی ہے۔
خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ اجلاس ایسے چلانا ہے تو وہ چلے جاتے ہیں۔ اعتزاز احسن نے بھی اپنا حصہ شامل کرتے ہوئے پرانے شکوے کیئے اور کہاکہ گالی گلوچ بریگیڈ کے پاس صرف سکھوں کی لسٹیں یا ایل پی جی کوٹہ کے الزامات رہ گئے ہیں۔اعتزاز احسن نے مطالبہ کیا کہ الزام نہیں مقدمہ بنائیں۔ یہ نہ سمجھیں کہ کشمیر کی بات ہورہی ہے تو حکومت پر تنقید ہی نہ ہو۔
اس موقعے پر اسپیکرایاز صادق نے بھی مداخلت کی۔ راجہ ظفرالحق بھی بیچ بچاؤ کرانے آئے تو مشاہداللہ بھی بولےکہ کسی کی دل آزاری ہو تو وہ معزرت کرتے ہیں۔