Subscribing is the best way to get our best stories immediately.
کراچی:کراچی کی انسدادی دہشت گردی کی ایک عدالت نے میئرکراچی وسیم اخترکی درخواست ضمانت کی سماعت 18اکتوبرتک ملتوی کردی۔
میئرکراچی وسیم اخترکی درخواست ضمانت کی سماعت کے دوران عدالت کا کہنا تھا وسیم اختر کا ایف آئی آرمیں نام نہیں ہے ۔
عدالت نے وسیم اخترسے استفسارکیا جب واقعہ ہوا کس عہدے پر فائز تھے تھے، وقوعہ کتنے بجے اور کیسے پیش آیا۔
وسیم اخترنے عدالت کوبتایا میں وزیراعلی کا مشیربرائے داخلہ تھا وقوعہ دوپہر 12 بجے کا ہے اوراس وقت گورنرہاؤس میں تھا۔
https://youtu.be/PcsIsAEpSgA
وسیم اخترنے عدالت کو بتایا میں بھاگوں گا نہیں میں منتخب میئر ہوں، میراخاندان کراچی میں ہے۔ میرے بچے ہیں بیٹیاں ہیں ان کے رشتوں کامعاملہ ہے، میرے ساتھ ظلم ہورہاہے مجھ پررحم کیاجائے اورضمانت دی جائے۔
سرکاری وکیل نے عدالت کوبتایا وسیم اخترنے سرکاری افسران کے سامنے اعترافی بیان دیا۔
وسیم اخترنے اعتراف کیا کہ انہیں افتخارچوہدری کی ریلی ہر قیمت پر روکنے کا حکم ملا تھا
ان کا کہنا تھا کہ میرے بیان اوراعترافی بیان میں تضاد ہے، میں عوام کی خدمت کرنا چاہتا ہوں لہذا میری رہائی کا حکم دیا جائے ۔