سندھ ہائیکورٹ کا صوبے بھر میں شراب خانے بندکرنے کا حکم

اپ ڈیٹ 18 اکتوبر 2016 10:08am

سندھ ہائیکورٹ نے سندھ بھر میں شراب خانوں کو بند کرنے کا حکم سنا دیا۔

سندھ ہائیکورٹ نے کراچی سمیت سندھ بھر میں قائم شراب خانوں کی بندش کے احکامات دے دیئے۔

عدالت نے حکم دیا کہ پورا سال شراب کی دکانوں کے لائسنس غیر قانونی ہیں،شراب خانوں کیلئے جاری تمام لائسنس ری کال کرلئے جائیں۔آئی جی سندھ فی الفور ایسی تمام شراب کی دکانیں بند کرادیں،کراچی ضلع جنوبی میں 20ہزار اقلیت ہیں،

لیکن شراب کی 24دکانیں کھلی ہیں،کراچی میں 120شراب خانوں کو لائسنس جاری کئے گئے۔

حدود آرڈیننس سیکشن 17کےتحت شراب کی فراہمی اقلیتوں کے مذہبی تہوار کے موقع پر دی جاسکتی ہے،ہولی دیوالی اور کرسمس سے صرف 5 دن پہلے شراب اقلیتوں کو دی جاسکتی ہے،عدالت پنڈتوں اور بشپ کو بلا کر پوچھیں گے کون سے گیتا اور بائبل سارا سال شراب پینے کی اجازت دیتی ہے۔

عدالت نے ریمارکس دیئے کہ ضلع جنوبی میں جتنی دکانیں اور شراب ہیں اگر اقلیتیں نہا بھی لیں تو بھی بچ جائے گی،ہندوؤں اور کرسچن کا محض نام ہے، اصل کہانی اور ہی ہے،بیچارے ہندو نہ اتنی پی سکتے ہیں اور نہ افورڈ کرسکتے ہیں۔

عدالت نے ڈی جی ایکسائز کو حکم دیا کہ تمام شراب کی دکانیں بند کرکے 2روزمیں رپورٹ پیش کریں۔

Read Comments