اسلام آباد:پيمرا نے تمام اليکٹرانک ميڈيا سے بھارتی مواد ہٹانے کیلئے48گھنٹے سے بھی کم وقت کی ڈیڈلائن دے دی۔
تمام ٹی وی چینلز اور ایف ایم ریڈیوز پر21نومبر سہ پہر تین بجے سے انڈین مواد نشر کرنے پر پابندی ہوگی اور خلاف ورزی پر لائسنس معطل کر دیا جائے گا۔
پاکستانی میڈیا پر بھارتی مواد نشر کرنے کے خلاف اٹھنے والی آوازوں پر پیمرا نے انتہائی قدم اٹھالیا۔ بھارتی مواد نشر کرنے پر مکمل پابندی کا فیصلہ اسلام آباد میں چیئرمین پیمرا ابصار عالم کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں کیا گیا۔
اتھارٹی نے یہ فیصلہ حکومت پاکستان کی جانب سے سمری کا جواب موصول ہونے پر کیا۔
جس میں حکومت پاکستان نے پیمراکو مکمل اختیارات تفویض کیے کہ وہ انڈین مواد سے متعلق فیصلہ سازی کرنے میں مکمل بااختیار ہے۔
پیمرا کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق پرویز مشرف حکومت کی جانب سے سن 2006میں انڈیا کو دی گئی یک طرفہ رعایت کو منسوخ کردیا گیا ہے۔
پیمرا نے واضح کیا ہے کہ پابندی پر عمل نہ کرنے والے ٹی وی چینلز اور ایف ایم ریڈیوز کا لائسنس بغیر شوکاز نوٹس جاری کیے معطل کردیا جائے گا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ48گھنٹے سے بھی کم کی ڈیڈلائن درست نہیں۔ پیمرا کو اتنا بڑا فیصلہ کرنے سے قبل اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لینا چاہیئے تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ پیمرا کی ہدایات پر پاکستانی چینلز نے ذمہ داری کا ثبوت دیا اور پندرہ اکتوبر تک بھارتی مواد ستر سے چھ فیصد پر لے آئے تھے۔
لیکن اب مکمل پابندی سے سرمایہ کاروں کو کروڑوں کا نقصان ہوگا۔ کیونکہ جو کونٹینٹ خرید لیا گیا ہے اس کی ادائیگی ہوچکی ہے۔
پیمرا کے فیصلے کے نفاذ کے بعد چینلز یا تو کونٹینٹ ریپیٹ ٹیلی کاسٹ کریں گے یا پھر ان کے بند ہونے کا خدشہ ہے جس سے بیروزگاری میں اضافہ ہوگا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پیمرا کو اسٹیک ہولڈر سے رابطہ کرنا چاہیئے تاکہ مل بیٹھ کر مسئلے کا کوئی حل نکالا جاسکے۔