Subscribing is the best way to get our best stories immediately.
کراچی:گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان نے عزیز آباد سے برآمد اسلحے سے متعلق اہم انکشاف کر دیا ۔
گورنر سندھ کہتے ہیں کہ برآمد کیا گیا اسلحہ پاک فوج، رینجرز اور پولیس سے لڑنے کیلئے خریدا گیا تھا اور اس کے پیچھے سیاسی جماعت کی تنظیمی کمیٹی کا ہاتھ ہے ۔
انہوں نے واضح کیا کہ کراچی میں جرائم اور قتل کی جتنی وارداتیں ہوئی ہیں، ان میں ملوث عناصر کو لٹکایا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ پرانے کیسز کے اہم شواہد مل چکے ہیں جن میں،یکم مئی 1992 کو ایم کیوایم کے چیئرمین عظیم احمد طارق قتل کیس،17 اکتوبر 1998 میں حکیم سعید قتل کیس،13 جنوری 2011 کے رہنما اے این پی بشیر جان پر حملہ کیس،11 ستمبر 2012 میں بلدیہ فیکٹری کو آگ لگانے کا کیس جس میں 259 افراد لقمہ اجل بنےاور 4 اکتوبر 2016 کو عزیزآباد کے مکان سے اسلحہ کی بڑی کھیپ کے پکڑے جانے کا کیس شامل ہے۔
گورنر سندھ نے واضح کیا کہ جو بھی ان کیسز میں ملوث ہوا اسے لٹکا دیا جائے گا۔
ڈاکٹر عشرت العباد نے چائنا کٹنگ کے پیچھے بھی قبضہ مافیا اور ٹارگٹ کلنگ کی پوری سیریز کا انکشاف کیا۔
گورنر سندھ نے خود پر لگائے گئے الزامات کو بھی مسترد کرتے ہائے کہا کہ نہ چائنا کٹنگ کا آج تک نام سنا ہے اور نہ ہی ان پر کوئی مقدمہ ہے۔
انہیں گورنر بنانے سے پہلے ہر طرح سے چھان بین کی گئی۔
ڈاکٹر عشرت العباد خان کا کہنا تھا کہ 2013 کا آپریشن انہوں نے، ڈی جی رینجرز اور کور کمانڈر کے ساتھ مل کر طے کیا تھا ،جس کے ثمرات سب کے سامنے ہیں ۔