پاناما لیکس: سپریم کورٹ نے فریقین سے ٹرمز آف ریفرنس طلب کرلئے

اپ ڈیٹ 01 نومبر 2016 10:46am

اسلام آباد:حکومت اور تحریک انصاف نے پاناما لیکس کی تحقیقات کےلئے کمیشن کے قیام پر رضامندی ظاہر کردی ہے، سپریم کورٹ نے فریقین سے ٹرمز آف ریفرنس طلب کرلیے۔

چیف جسٹس انورظہیرجمالی کی سربراہی میں عدالت عظمی کے 5 رکنی  بینچ نے پاناما کیس کی سماعت کی۔

عمران خان کی جگہ ان کے وکلاء پیش ہوئے جبکہ دیگر تمام فریقین اور حکومتی وزراء بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے،سماعت 2 مراحل میں ہوئی، وزیراعظم سمیت فریقین نے نوٹس پر جواب دینے کیلئے مزید وقت مانگا ہے۔

 جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ تاخیری حربے استعمال نہ کیے جائیں،چیف جسٹس نے کہا کہ عوام کی نظریں اس ہائی پروفائل کیس پر لگی ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ تحقیقات کرنا نیب کا کام ہے کیوں نہیں کیں،کوئی اتھارٹی کچھ نہیں کرنا چاہتی،دیکھیں گے کہ چیئرمین نیب کے خلاف کیا ایکشن لیا جائے،قانون اپنا راستہ خود بنائے گا۔

 تحریک انصاف کے وکیل حامد خان  کا کہنا تھا کہ لندن کی ایک عمارت میں شریف خاندان کے چار فلیٹس ہیں، پھر عدالت نے کمیشن کی تشکیل پر تمام فریقین کی رائے طلب کرلی۔

 وقفہ کے بعد وزیراعظم کے وکیل نے کمیشن تشکیل پر آمادگی ظاہر کی اور کہاکہ وزیراعظم لندن جائیدادوں پرکمیشن کی تشکیل اور الزام ثابت ہونے پر قانونی نتائج بھگتنے کوتیارہیں، ایسے الزامات عمران خان،اورجہانگیر ترین پر بھی ہیں۔

 عدالت  نے فریقین کو سخت موقف سے پیچھے ہٹنے کی ہدایت  کی اور  ممکنہ کمیشن پر مجوزہ ٹرمز آف ریفرنس طلب کر لئے۔

عدالت کا کہنا تھا کہ  کمیشن وہ خود بنائے گی آئندہ سماعت 3 نومبر کو ہوگی۔

Read Comments