سپریم کورٹ کاپاناما پیپرزپرجواب نہ جمع کرانے پر اظہاربرہمی

اپ ڈیٹ 03 نومبر 2016 10:47am

اسلام آباد:سپریم کورٹ نے پاناما پیپرزپرمریم، حسن اورحسین نوازکا جواب نہ جمع کرانے پر اظہاربرہمی کیا ہے۔

چیف جسٹس انورظہیرجمالی کی سربراہی میں 5 رکنی لارجربینچ نے سماعت کی۔

چیف جسٹس نے وزیراعظم کے وکیل سے جواب جمع کروانے کا استفسارکیا،جس پروکیل نے بتایاکہ جن درخواستوں میں وزیراعظم فریق ہیں ان میں جواب جمع کرادیا۔

چیف جسٹس نے جواب کی نقول تمام فریقین کو فراہم کرنے کی ہدایت کی،حسن نواز،حسین نواز اورمریم نوازکے جوابات نہ آنے پرعدالت نے برہمی کا اظہارکیا ۔

جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ اصل فریق تینوں بچوں کے جواب کیوں نہیں جمع ہوئے ، ہمارا وقت ضائع کیا جارہا ہے۔

وکیل سلمان بٹ نے کہا کہ  حسن اورحسین نواز ملک سے باہرہیں جس پرسپریم کورٹ نے کہاکہ ملک میں موجود فریق کا جواب جمع ہونے چاہیں، کیا آئندہ سال جواب جمع کرائیں گے۔

سلمان بٹ نے کہا کہ مریم صفدروزیراعظم کی کفالت میں نہیں ہیں جسٹس عظمت نے کہاکہ اگرپتہ ہوتا کہ یہ کرنا ہے توعدالت ہی نہ لگاتے یہ بات لکھ کردیں کہ مریم نوازوزیراعظم کی کفالت میں نہیں ۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ قانون کے مطابق اگرجواب جمع نہ کرایا توالزامات تسلیم کرلیں گے۔

 وزیراعظم کے وکیل نے جواب جمع کرانے کیلئے 7 روزکی مہلت مانگی ۔

 عدالت نے حسن نواز، حسین نوازاور مریم نواز کے جوابات 7 نومبرتک داخل کروانے کا حکم دیا۔

چیف جسٹس نے فریقن سے کیس کے اختیارات سے متعلق استفسارکیا تاہم کسی فریق کی جانب سے سے اعتراض نہ آنے پردرخواستوں کو قابل سماعت قراردیا ۔

عدالت نے معاملہ بنیادی انسانی حقوق کا قراردے دیا ، سپریم کورٹ نے تمام فریقین سے تجاویزفوری جمع کرانے کی ہدایت کی ۔

 چیف جسٹس نے فریقین پر واضح کرتے ہوئے کہاکہ عدالت کسی کے ٹی اوآرز کی پابند نہیں معاملہ کی تحقیقات کیلئے ایک رکنی کمیشن تشکیل دے دیں گے،سماعت پیرتک ملتوی کردی گئی۔

Read Comments