کراچی:انسداد دہشت گردی عدالت میں ایم کیوایم کے بانی کی اشتعال انگیز تقریرکے مقدمات کی سماعت ہوئی،سماعت کے دوران وسیم اختر اوررؤف صدیقی کی ضمانت منظور ہو گئی، جبکہ دیگررہنماؤں فاروق ستار،حیدرعباس رضوی کے ایک بار پھر ناقابل ضمانت وارنت گرفتاری جاری کردئے گئے۔
کراچی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں ایم کیوایم کے بانی کی اشتعال انگیز تقریر کے 38مقدمات کی سماعت ہوئی ۔
جیل سے میئرکراچی وسیم اختر کوعدالت میں پیش کیا گیا۔ عدالت میں کیس میں نامزرؤف صدیقی عبدالرزاق محمود ،خواجہ اظہار اور دیگر ملزمان پیش ہوئے۔
عدالت میں رؤف صدیقی اور وسیم اختر کی جانب سے تھانہ سائٹ سپر ہائی وے میں درج ہونے والے مقدمہ میں درخواست ضمانت پر دلائل ہوئے وسیم اختر کے وکلا ء کا کہنا تھا کہ ایک ہی الزام میں کئی مقدمات درج کئے گئے جبکہ اس مقدمہ میں اب تک گرفتاری نہیں ڈالی گئی۔
عدالت کو بتایا گیا ہے مقدمہ کا تفتیشی افسر موجود نہیں ہے جس پر عدالت نے دونوں رہنماؤں کی پچیس پچیس ہزار روپے کے عوض درخواست ضمانت منظور کرتے ہوئے مقدمات کی سماعت یکم دسمبر تک ملتوی کردی ۔
عدالت نے مقدمات میں مفرور ایم کیوایم رہنما فاروق ستار خالد مقبول صدیقی ،قمر منصور،سیف یار خان،ریحان ہاشمی، حیدرعباس رضوی اور دیگر کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیئے۔
مقدمات میں ضمانت کے بعد میئرکراچی وسیم اختر کیخلاف دہشت گردوں کے علاج کا ایک مقدمہ حائل ہے جس کی سماعت 16 نومبر کو ہوگی ۔
سماعت کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے خواجہ اظہار کا کہنا تھا کہ ایم کیوایم کا کوئی رہنما ملک سے فرارنہیں ہوا، ہم عدالتوں کا سامنا کررہے ہیں ،ہمارے پاس ڈرائی کلین کیلئے صرف عدالتیں ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے ملک کی ترقی کو جاری رکھنا ہے،دہشت گردی کیخلاف ایم کیوایم کھڑی ہے،ایم کیوایم کسی جرائم پیشہ فرد کے پیچھے کھڑی نہیں ہوگی،اس کے علاوہ لاپتہ کارکنوں کا وزیراعلیٰ سندھ اورچئیر مین پی پی بلاول بھٹو زرداری نوٹس لیں ۔