بلوچستان:دہشت گردی، رواں برس دو سو شہری لقمہ اجل بنے ،رپورٹ

شائع 12 نومبر 2016 05:23pm

کوئٹہ :بلوچستان میں رواں برس اب تک چالیس بم دھماکوں میں دو سو سے زائد شہری اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھو بیٹھے جبکہ پانچ سو زائد زخمی بھی ہوئے۔

بلوچستان کی سرزمین دہشت گردوں کا آسان ہدف بن گئی سفاک دہشت گرد کہیں سے بھی آتے ہیں اور بے گناہوں کے خون سے ہولی کھیل جاتے ہیں۔

جنوری کی صبح دہشت گردوں نے کوئٹہ کے سیٹلائٹ ٹاؤن میں قائم پولیو سینٹر کو نشانہ بنایا،خودکش حملے میں تیرہ سیکیورٹی اہلکاروں سمیت سولہ افراد زندگی کی بازی ہار گئےجبکہ پچیس سے زائد زخمی بھی ہوئے۔

چھ فروری کی صبح کوئٹہ ایک بار پھر زور دار دھماکے سے گونج اٹھا۔اس بار سیٹلائٹ ٹاؤن کے قریب سیکیورٹی فورس کی گاڑی پر حملہ کیا گیاجس کے نتیجے میں سیکیورٹی اہلکاروں سمیت تیرہ افراد جاں بحق اور اڑتیس زخمی ہوئے۔

آٹھ اگست کا سورج کوئٹہ کے لیے ہولناک صبح لے کر طلوع ہوا،ظالم دہشت گردوں نے سول اسپتال کو اپنی سفاکیت کا نشانہ بنایاخودکش حملے میں پچھتر افراد شہید اور سو سے زائد زخمی ہوگئے۔اسی دھماکے میں آج نیوز کے کیمرامین شہزاد خان بھی فرائض کی انجام دہی کے دوران شہید ہوگئے۔

چوبیس اکتوبر کی شب دہشت گردوں نے ایک بار پھر خون کی ہولی کھیلی،اس بار نشانہ بنایا گیا نیو سریاب پولیس کالج کو دہشت گردوں کے حملے میں چونسٹھ جوان شہید اور ڈیڑھ سو زائد زخمی ہوئے تھے۔

رواں برس اب تک چالیس بار بلوچستان کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا جاچکا ہے جس میں سیکیورٹی فورسز کے جوانوں سمیت دوسو کے قریب افراد جاں بحق اور پانچ سو سے زائد زخمی ہوئے۔

Read Comments