کسی صوبے سے امتیازی سلوک نہیں ہورہا ،احسن اقبال

شائع 10 جنوری 2016 02:10pm

اسلام آباد:وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال کہتے ہیں راہداری منصوبہ میں کسی صوبے کے ساتھ کوئی امتیازی سلوک نہیں کیا جارہا ہے، پینتیس ارب ڈالرز کے سب سے زیادہ منصوبے سندھ میں لگ رہے ہیں۔

اے پی سی میں ان کا کہنا تھا کہ نقشے میں بھی کوئی تبدلی نہیں ہورہی، سعد رفیق کہتے ہیں آئین سے چھیڑخانی کی صورت میں حالات مشکل ہوجاتے ہیں،ملکی ترقی کیلئے اتفاق رائے ناگزیرہے۔

احسن اقبال نے کہا کہ راہداری منصوبہ پاکستان اور چین کا مشترکہ منصوبہ ہے، ہم ڈرائیونگ سیٹ پر نہیں ہیں کہ تمام فیصلے خود کرلیں، انہوں نے کہا کہ کسی سطح پر کسی صوبے کے ساتھ کوئی امتیازی سلوک نہیں کیا جارہا ہے، محرومی کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا۔

احسن اقبال نے کہا کہ پرویز خٹک نے تیرا نکات اٹھائے ہیں اور کہا کہ چھیالیس ارب چھپا کر رکھیں ہیں، مگر ہم کئی بار اسکی وضاحت کرچکے ہیں، انہوں نے کہا کہ یہ کہنا کہ راہداری منصوبہ چائینہ پنجاب اکنامک کاریڈار بن چکا ہے، حقائق کے برعکس ہے۔پیتینس ارب ڈالرز کے سب سے زیادہ منصوبے سندھ، پھر بلوچستان اور تیسرے نمبر پر پنجاب میں لگے گیں۔

اے پی سی میں خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیرریلوے خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھاملکی ترقی کے لیئے اتفاق رائے ضروری ہے، آئین سے چھیڑ خانی کی صورت میں حالت مشکل ہوجاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کراچی سے کوٹری تک ایک سوچونتیس کلومیٹرٹریک جلد بچھایا جائے گا،یہ ٹریک دوہزاراٹھارہ تک مکمل کرلیا جائے گا،ان کا مزید کہنا تھا کہ گوادرمیں ریلوے اسٹیشن اورریلوے ٹریک کیلئے زمین بھی حاصل کررہے ہیں،جبکہ اقتصادی راہداری کیلئے چین کے بعد دیگرممالک بھی پاکستان میں سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں۔

Read Comments