Subscribing is the best way to get our best stories immediately.
کراچی:سندھ حکومت نے سرکاری اسپتالوں کو نجی شعبے کے حوالے کرنے کا اصولی فیصلہ کرلیا ہے،چھوٹے بڑے چونسٹھ طبی مراکز پانچ این جی اوز کے حوالے کئے جائیں گے۔سندھ حکومت کا سرکاری اسپتال نجی شعبے کے حوالے کرنے کا فیصلہ،پانچ سے دس سالہ معاہدے کے تحت طبی مراکز نجی شعبے کے حوالے کیے جائیں گے۔ سندھ بھر میں ان طبی مراکز کی تعداد چونسٹھ کے قریب ہے جنہیں پانچ این جی اوز کے سپرد کردیا جائے گاجن میں گڈاپ اور بن قاسم کے طبی مراکز ہینڈز نامی این جی او کو منتقل ہوں گےنارتھ کراچی کے چلڈرن اسپتال کا معاہدہ بھی انڈس اسپتال سے ہوا ہے، جبکہ ابراہیم حیدری کے سرکاری اسپتال کا انتظام انڈس اسپتال کو دیا جائے گا،ٹھٹھہ اور بدین کے سول اسپتال برطانوی این جی او مرلن کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔لاڑکانہ ڈویڑن کے طبی مراکز آئی ایچ ایس اور مرلن کے پاس ہوں گے، ٹھٹہ اور سجاول میں ایمبولینس سروس امن فاونڈیشن کے حوالے کرنیکا فیصلہ ہوا ہے۔معاہدے کے تحت اسپتالوں کیلئے ادویات اور مشینری بھی نجی شعبہ ہی خریدے گا، ادویات اور مشینری کی خریداری کیلئے رقم محکمہ صحت فراہم کرے گا۔
کراچی:سندھ حکومت نے سرکاری اسپتالوں کو نجی شعبے کے حوالے کرنے کا اصولی فیصلہ کرلیا ہے،چھوٹے بڑے چونسٹھ طبی مراکز پانچ این جی اوز کے حوالے کئے جائیں گے۔
سندھ حکومت کا سرکاری اسپتال نجی شعبے کے حوالے کرنے کا فیصلہ،پانچ سے دس سالہ معاہدے کے تحت طبی مراکز نجی شعبے کے حوالے کیے جائیں گے۔
سندھ بھر میں ان طبی مراکز کی تعداد چونسٹھ کے قریب ہے جنہیں پانچ این جی اوز کے سپرد کردیا جائے گاجن میں گڈاپ اور بن قاسم کے طبی مراکز ہینڈز نامی این جی او کو منتقل ہوں گے
نارتھ کراچی کے چلڈرن اسپتال کا معاہدہ بھی انڈس اسپتال سے ہوا ہے، جبکہ ابراہیم حیدری کے سرکاری اسپتال کا انتظام انڈس اسپتال کو دیا جائے گا،ٹھٹھہ اور بدین کے سول اسپتال برطانوی این جی او مرلن کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
لاڑکانہ ڈویڑن کے طبی مراکز آئی ایچ ایس اور مرلن کے پاس ہوں گے، ٹھٹہ اور سجاول میں ایمبولینس سروس امن فاونڈیشن کے حوالے کرنیکا فیصلہ ہوا ہے۔
معاہدے کے تحت اسپتالوں کیلئے ادویات اور مشینری بھی نجی شعبہ ہی خریدے گا، ادویات اور مشینری کی خریداری کیلئے رقم محکمہ صحت فراہم کرے گا۔