Subscribing is the best way to get our best stories immediately.
گجرات:بھارت میں اترپردیش کے بعد اب ریاست گجرات نے بھی مسلمانوں کو پریشان کرنے کی ٹھان لی ہے۔ بھارتی وزیراعظم نریندرمودی کی آبائی ریاست گجرات میں گائے ذبح کرنے پرعائد سزا کو بڑھا کر عمر قید میں بدلنے کا قانون پاس کرلیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق بھارت میں انتہا پسند ہندو گائے کو مقدس جانور گردانتے ہیں جس کی وجہ سے بیشتر ریاستوں میں اس کے ذبیحہ پر پابندی عائد ہے۔ ملک کی چند ریاستوں میں مسلمانوں کا گوشت کھاناممنوع ہے۔ جس کی وجہ سےوہاں رہنے والے مسلمان پریشانی کا شکارہیں۔
گجرات کی ریاستی اسمبلی نےجمعہ کو ایک قانون پاس کیا جس کے مطابق جانوروں کے تحفظ ایکٹ 1954 کے نظر ثانی قانون کے تحت گائیں کی اسمگلنگ پر دس سال کی سزا جبکہ گائے ذبح کرنے والے شخص کو عمر قید کی سزا دی جائے گی،تاہم قانون میں اس ترمیم کی منظوری ریاست کے گورنر سے لینا ابھی باقی ہے۔
دوہزار گیارہ میں ہونے والی ترمیم کے مطابق گائے ذبح کرنے پر زیادہ سے زیادہ سات سال کی سزا تھی۔ نئے قانون میں جرمانے کی رقم پچاس ہزار سے بڑھا کرایک لاکھ سے پانچ لاکھ کردی گئی ہے۔
جبکہ گائے لے جانے والی گاڑی کوبھی ضبط کرلیا جائے گا۔ اس کےساتھ ہی شام سات بجے سے صبح پانچ بجے تک ان کو ایک جگہ سے دوسری جگہ پر لے جانے پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے۔