Subscribing is the best way to get our best stories immediately.
کراچی:منافع خوروں نے سرکاری نرخ نامہ ہوا میں اڑا دیا، مرغی کا گوشت ہول سیل میں چوبیس روپے اضافے سے دو سو چالیس روپے فی کلو فروخت کیا جا رہا ہے۔کمشنر کراچی کی فہرست کے مطابق برائلر مرغی کا گوشت دو سو سولہ روپے فی کلو ہے، لیکن بازار میں دکاندار کچھ اور ہی قیمت وصول کررہے ہیں، ہول سیلرز کہتے ہیں کمشنر کراچی کی فہرست پر عمل نہیں کرسکتے۔ وزارت خوراک و زراعت کے مطابق پاکستان میں مرغی کی پیداوار چار کروڑ چودہ لاکھ سالانہ ہے، جو ملک میں گوشت کی مجموعی کھپت کا پچیس فیصد فراہم کرتی ہے، پولٹری انڈسٹری میں سرمایہ کاری کا حجم تین سو ارب روپے کے لگ بھگ ہے۔ اس کے باوجود شہریوں کو مرغی کا سستا گوشت دستیاب نہیں، اور وجہ ہے منافع خوری۔دکاندار کہتے ہیں خرید سے بھی کم قیمت میں مرغی کی فروخت کسی طرح ممکن نہیں، کاروبار ختم کرنا ہی مسئلے کا واحد حل ہے۔
کراچی:منافع خوروں نے سرکاری نرخ نامہ ہوا میں اڑا دیا، مرغی کا گوشت ہول سیل میں چوبیس روپے اضافے سے دو سو چالیس روپے فی کلو فروخت کیا جا رہا ہے۔
کمشنر کراچی کی فہرست کے مطابق برائلر مرغی کا گوشت دو سو سولہ روپے فی کلو ہے، لیکن بازار میں دکاندار کچھ اور ہی قیمت وصول کررہے ہیں، ہول سیلرز کہتے ہیں کمشنر کراچی کی فہرست پر عمل نہیں کرسکتے۔
وزارت خوراک و زراعت کے مطابق پاکستان میں مرغی کی پیداوار چار کروڑ چودہ لاکھ سالانہ ہے، جو ملک میں گوشت کی مجموعی کھپت کا پچیس فیصد فراہم کرتی ہے، پولٹری انڈسٹری میں سرمایہ کاری کا حجم تین سو ارب روپے کے لگ بھگ ہے۔ اس کے باوجود شہریوں کو مرغی کا سستا گوشت دستیاب نہیں، اور وجہ ہے منافع خوری۔
دکاندار کہتے ہیں خرید سے بھی کم قیمت میں مرغی کی فروخت کسی طرح ممکن نہیں، کاروبار ختم کرنا ہی مسئلے کا واحد حل ہے۔