بھارتی خاتون یاسمین نے دیا سونو نگم کو کرارا جواب ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل
رواں ہفتے پیر کو گلوکار سونو نگم نے اذان کیخلاف ٹویٹ کرکے بھارتی مسلمانوں کو سخت مشتعل کردیا ان کے اس ٹویٹ نے سوشل میڈیا پر طوفان مچادیا اور لوگ اذان اور مسلمانوں کی حمایت میں نکل کھڑے ہوئے۔ سونونگم کو تعصب پسندی اور مسلمانوں کے جذبات مجروح کرنے پر مسلم کے ساتھ غیر مسلموں نے بھی کڑے انداز میں جواب دیا اور ان سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا۔ سونو کو جواب دینے والے لوگوں میں خاتون یاسمین ارورہ منشی بھی شامل تھیں جن کی ایک لائیو ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی اور اب تک 80 لاکھ سے زائد بار اسے دیکھا جا چکا ہے۔ یاسمین نے سونو سےاذان سے متعلق بیان دینے پر کئی سوال پوچھے ہیں کہ" تم نے اذان ہونے پر تو کہہ دیا کہ یہ غنڈہ گردی ہے لیکن اس وقت ٹویٹ کیوں نہیں کیا جب بیف کھانے پر مسلم خاتون کی بھارتی انتہا پسند ہندو عصمت دری کرتے ہیں ،اس وقت کیوں نہیں کہا کہ جب ایک بے قصو ر مسلمان کو صرف اس شبے میں قتل کردیا جاتا ہے کہ اس نے گائے کا گوشت کھایاہے۔ یاسمین نے سوال کیا کہ سونو نگم جی آپ قریب 50 سال کے ہوگئے ہیں آپ کو پچاس برسوں بعد اچانک یاد آیا کہ اذان سے تکلیف ہوتی ہے ،کیا یہ سوال مودی کی حکومت کو دیکھ کر اٹھایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت میں ہندو اپنے مذہبی تہوار مناتے وقت کئی دنوں تک اورنچی آواز میں لاؤڈ اسپیکر بجاتے ہیں ،اس وقت تم نے ٹویٹ کیوں نہیں کیا کہ یہ غنڈہ گردی ہے اسے بند کرنا چاہئے۔ یہ بھی پڑھئیے: مسلمانوں کیخلاف ٹویٹ کرنا مہنگا پڑگیا سونونگم گنجے ہوگئے یاسمین کا کہنا تھا کہ شاید مودی سرکار اور بھارتی حکمراں جماعت کو خوش کرنے کیلئے تمام لوگوں نے ایک ہی طریقہ اپنا یا ہے کہ مسلمان اوراذان کیخلاف بولا جائے اس طرح مودی سرکار خوش ہوجائے گی ،یاسمین کے اس پیغام کو بہت زیادہ پزیرائی حاصل ہو رہی ہے اور اب تک ڈیڑھ لاکھ سے زائدمرتبہ اس ویڈیو کو شیئر کیا جا چکا ہے۔