ہماری سوچ ہماری صحت پر کیسے اثرات مرتب کرتی ہے؟
Daily mailہم میں سے بہت سے لوگ یہ بات مانتے ہیں کہ ہم دنیا میں صحت مند ترین لوگ نہیں ہیں۔
لیکن ایک تحقیق نے خبردار کیا ہے یہ سوچ خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔
اسٹینفورڈ یونیورسٹی کے مطابق وہ لوگ جو خود کو دوسروں کے مقابلے میں کم صحت مند سمجھتے ہوں ان کی جلد موت واقع ہونے کے خطرات زیادہ ہوتے ہیں،اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا وہ کتنے ہی فعال کیوں نہ ہوں۔
ہیلتھ سائکولیجی میں شائع ہونے والی تحقیق میں دِکھایاگیا ہے کہ کیسے ہماری سوچ، احساسات اور عقیدے کیسے ہماری صحت پر اثرات مرتب کرتے ہیں۔
ماہرین کہتے ہیں ہمیں مثبت سوچ اور ورزش کو یکساں اہمیت دینی چاہیئے۔
نفسیات کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر کرم اور ڈاکٹرل کی شاگرد آکٹیویا زارٹ نے 60ہزار امریکی لوگوں کے سروے کا تجزیہ کیا۔
سروے میں شرکاء سےدیگر چیزوں کے ساتھ جسمانی سرگرمی کی سطح، صحت اورذاتی پس منظر پوچھا گیا۔
شرکاء نے ایکسیلورومیٹر پہن کر ہفتے بھر تک جسمانی سرگرمی کو پیمائش کی۔
سب شرکاء سے پوچھا گیا کہ وہ اپنے ہم عمر کسی شخص کو خود کے برابر فعال سمجھتے ہیں، زیادہ فعال سمجھتے ہیں یا کم فعال سمجھتےہیں۔
محققین نے پھر 2011کے ریکارڈ کو دیکھا جو پہلا سروے لینے کے 21 سال بعد کا تھا۔
انہیں معلوم ہوا کہ وہ لوگ جو خود کودوسروں کے مقابلے میں کم فعال سمجھتے تھے ان میں 71فیصد آنے والے وقتوں مرنےکے قریب تھے۔
Daily mailبشکریہ
















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔