نہانے کے بعد فوراً اے سی میں بیٹھنا کتنا خطرناک ہے؟

تھرمل شاک کے خطرات سے بچنے کے لیے ماہرین کے آسان اور مفید طریقوں پر عمل کریں۔
شائع 12 جون 2026 09:31am

گھروں میں گرمی کے موسم میں نہانے کے بعد فوراً ایئر کنڈیشنر یعنی اے سی کی ٹھنڈی ہوا میں بیٹھنا زیادہ تر لوگوں کی عادت بن چکا ہے۔ صحت کے ماہرین اور بین الاقوامی طبی اداروں کا ماننا ہے کہ یہ عادت صحت کو فائدے کے بجائے شدید نقصان پہنچا سکتی ہے۔

اکثر لوگ نہانے جانے سے پہلے ہی کمرے کا اے سی چلا دیتے ہیں تاکہ واپس آنے پر انہیں ایک دم ٹھنڈا کمرہ ملے۔ لیکن کیا ایسا کرنا ہماری صحت کے لیے پوری طرح محفوظ ہے؟

ماہرین کے مطابق نہانے کے فوراً بعد اے سی میں بیٹھنا ہر کسی کے لیے محفوظ نہیں ہوتا اور اس سے جسم کو کئی طرح کے صحت کے مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ کیونکہ گرمیوں میں ہمارے جسم کا درجہ حرارت اکثر گرم رہتا ہے اور جب ہم ٹھنڈے پانی سے نہاتے ہیں تو یہ درجہ حرارت اچانک کم ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت زیادہ ٹھنڈے یا بہت زیادہ گرم پانی سے نہانے سے منع کیا جاتا ہے تاکہ جسم کے درجہ حرارت میں اچانک بڑی تبدیلی نہ آئے۔

طبی ماہرین کے مطابق، نہانے کے فوراً بعد اے سی میں جانے سے جسم پر جو اثرات مرتب ہوتے ہیں، اسے طبی زبان میں تھرمل شاک یا درجہ حرارت کا جھٹکا کہا جاتا ہے۔ انسانی جسم کا اپنا ایک خودکار نظام ہوتا ہے جو بیرونی درجہ حرارت کے حساب سے خون کی شریانوں کو پھیلاتا یا سکیڑتا ہے۔

جب ہم گرمی میں نہا کر فوراً اے سی کے شدید ٹھنڈے ماحول میں جاتے ہیں تو جسمانی درجہ حرارت میں اچانک آنے والی یہ بڑی تبدیلی خون کی شریانوں کو بہت تیزی سے سکیڑ دیتی ہے۔

اس اچانک تبدیلی کی وجہ سے دل کی دھڑکن اور بلڈ پریشر پر دباؤ بڑھ سکتا ہے، جس سے کچھ لوگوں کو چکر آنے، کمزوری محسوس ہونے یا شدید سردرد کی شکایت ہو سکتی ہے۔

جب کوئی انسان نہا کر فوراً ٹھنڈے کمرے میں جاتا ہے، تو اس کا سیدھا اثر اس کے جسم کے درجہ حرارت پر پڑتا ہے۔ ضروری نہیں کہ یہ مسئلہ ہر شخص کو ہو، لیکن کچھ لوگوں کا جسم اس اچانک آنے والے ٹھنڈے پن کو فوراً برداشت نہیں کر پاتا، جس سے انہیں مشکلات ہونے لگتی ہیں۔

خاص طور پر گرمیوں کے دنوں میں بہت زیادہ ٹھنڈے پانی سے نہانے کے بعد فوراً اے سی میں بیٹھنا زیادہ نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ ٹھنڈا پانی جلد کے اوپر خون کے بہاؤ کو کم کر دیتا ہے جس کی وجہ سے جسم کی اندرونی گرمی باہر نہیں نکل پاتی۔ اس حالت میں جب انسان فوراً اے سی کی خشک اور ٹھنڈی ہوا میں بیٹھتا ہے تو جسم کا درجہ حرارت متوازن کرنے کا نظام عارضی طور پر متاثر ہو جاتا ہے، جو جسمانی مدافعت کو کمزور کر کے نزلہ، زکام اور گلے کی سوزش کا باعث بنتا ہے۔

ماہرین کے مطابق، اس عادت کی وجہ سے آنکھوں میں سوکھے پن یعنی ڈرائینس کا مسئلہ بھی ہو سکتا ہے۔ آنکھوں میں سوکھا پن آنے سے ان میں سرخی، خارش اور کبھی کبھی تیز درد بھی ہو سکتا ہے۔ جن لوگوں کو جلد سے جڑی بیماریاں جیسے ایگزیما یا روزیشیا کی شکایت ہوتی ہے، ان میں یہ مسئلہ اور زیادہ بڑھ سکتا ہے۔

اس کے علاوہ، جن لوگوں کو بہت جلدی سردی اور کھانسی ہو جاتی ہے، انہیں تو نہانے کے فوراً بعد اے سی میں بیٹھنے سے بالکل بچنا چاہیے۔ ایسا کرنے سے انہیں ٹھنڈ لگ سکتی ہے، کھانسی ہو سکتی ہے اور سانس لینے میں بھی دشواری آ سکتی ہے۔ کچھ لوگوں کی ناک بھی بند ہو سکتی ہے۔

اس عادت کا ایک بڑا نقصان جسم میں پانی کی کمی یعنی ڈی ہائیڈریشن کی شکل میں بھی سامنے آتا ہے۔ جب کمرے میں اے سی چلتا ہے، تو وہ وہاں کی ہوا کی نمی کو سوکھ لیتا ہے جس سے ہوا خشک ہو جاتی ہے۔

نہانے کے دوران بھی جسم سے پانی کم ہوتا ہے، ایسے میں فوراً اے سی والے کمرے میں آنے سے جسم میں پانی کی کمی بڑھ جاتی ہے۔ ماہرین کے مطابق، اگر کوئی شخص کمرے میں آتے ہی فوراً پانی پی لیتا ہے، تب بھی ڈی ہائیڈریشن کا مسئلہ پوری طرح ٹھیک نہیں ہوتا اور پریشانی بنی رہتی ہے۔

اس پورے معاملے اور تھرمل شاک کے خطرات سے بچنے کے لیے ماہرین نے کچھ بہت آسان اور مفید طریقے بتائے ہیں:

نہانے کے فوراً بعد کبھی بھی اے سی والے کمرے میں نہیں جانا چاہیے۔ سب سے پہلے کمرے کے عام درجہ حرارت پر کم از کم دس منٹ بیٹھیں تاکہ جسم کا درجہ حرارت قدرتی طور پر معمول پر آ جائے۔

اپنے جسم اور بالوں کو تولیے سے اچھی طرح خشک کریں، کیونکہ گیلے جسم پر اے سی کی ہوا لگنے سے سردی لگنے کا خطرہ دگنا ہو جاتا ہے۔

نہانے کے فوراً بعد پانی پینے سے بھی بچنا چاہیے۔ تھوڑا رک کر اور جسم کو آرام ملنے کے بعد ہی پانی پینا صحت کے لیے صحیح رہتا ہے۔

گرمیوں میں نہانے کے لیے بہت زیادہ ٹھنڈے پانی کے بجائے ہلکے نیم گرم یا عام درجہ حرارت کے پانی کا استعمال کریں، تاکہ جسم کو اچانک درجہ حرارت کا جھٹکا نہ لگے۔

اے سی کا درجہ حرارت بہت زیادہ کم کرنے کے بجائے چوبیس سے چھبیس ڈگری کے درمیان رکھیں، تاکہ کمرے اور باہر کے درجہ حرارت میں بہت بڑا فرق نہ ہو۔