ناریل پانی کتنی دیر میں خراب ہو جاتا ہے؟ نشانیاں اور محفوظ رکھنے کا طریقہ
ناریل پانی گرمی کے موسم میں پیاس بجھانے کے لیے ایک مقبول مشروب ہے۔ یہ ہماری صحت کے لیے انتہائی مفید ہے اور قدرتی طور پر جسم میں پانی اور نمکیات کی کمی کو دور کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ اس میں پوٹاشیم، میگنیشیم اور دیگر ضروری اجزا موجود ہوتے ہیں جو شدید گرمی اور لو سے بچاتے ہیں، گردوں کی صفائی میں مدد دیتے ہیں اور بلڈ پریشر کو متوازن رکھنے میں مفید ثابت ہوتے ہیں۔ تاہم اکثر لوگ اس بات سے ناواقف ہوتے ہیں کہ ناریل سے نکلنے کے بعد یہ پانی کتنی دیر تک تازہ رہتا ہے اور اسے کس طرح محفوظ کیا جائے؟
ماہرین غذائیت کے مطابق تازہ ناریل کا پانی نکالنے کے بعد جتنی جلدی ہو سکے پی لینا چاہیے۔ عام گرم موسم میں اگر اسے کمرے کے درجہ حرارت پر رکھا جائے تو صرف 2 سے 4 گھنٹے کے اندر اس کی تازگی متاثر ہونا شروع ہوسکتی ہے۔ اس لیے ناریل کھولنے کے بعد پانی کو زیادہ دیر باہر رکھنے کے بجائے جلد استعمال کرنا بہتر ہے۔
اگر ناریل پانی فوری طور پر نہیں پینا تو اسے فریج میں رکھا جاسکتا ہے۔ اس کے لیے پانی کو ایک صاف اور ہوا بند ڈبے میں ڈال کر جتنی جلدی ممکن ہو فریج میں رکھنا چاہیے۔
ناریل پانی کو محفوظ رکھنے کے لیے صفائی کا خاص خیال رکھنا بھی ضروری ہے۔ اسے ہمیشہ صاف اور اچھی طرح بند ہونے والے برتن میں رکھیں۔ ناریل سے پانی نکالتے ہی اسے فریج میں منتقل کردیں اور اسے گرمی یا براہ راست دھوپ سے دور رکھیں۔ بار بار ڈبہ کھولنے سے بھی گریز کریں، کیونکہ اس سے باہر کی ہوا اور آلودگی کے اثرات بڑھ سکتے ہیں۔
ناریل پانی پینے سے پہلے اس کی حالت ضرور دیکھ لیں۔ اگر اس کی بو یا ذائقہ معمول سے مختلف محسوس ہو تو اسے پینے سے گریز کرنا بہتر ہے۔
اگر ناریل پانی کو ایک یا دو دن سے زیادہ محفوظ رکھنا ہو تو اسے فریزر میں بھی رکھا جاسکتا ہے۔ اس کے لیے فوڈ گریڈ ڈبہ یا آئس کیوب ٹرے استعمال کی جاسکتی ہے۔ فریزر میں ناریل پانی تقریباً ایک سے دو ماہ تک رکھا جاسکتا ہے۔
تاہم استعمال سے کچھ دیر پہلے اسے باہر نکال کر عام درجہ حرارت پر پگھلنے دیں۔ فریز کرنے سے اس کے ذائقے اور غذائیت میں معمولی فرق آ سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق بازار میں ملنے والے پیک شدہ ڈبے والے ناریل پانی کی میعاد اور قدرتی ناریل پانی کی پائیداری میں فرق ہوتا ہے، کیونکہ ڈبے والے پانی میں کیمیائی اجزا شامل ہوتے ہیں جن کی وجہ سے وہ زیادہ دن چلتا ہے، جب کہ قدرتی پانی بہت جلدی خراب ہوتا ہے۔ ناریل خریدتے وقت اس بات کا خیال رکھیں کہ ناریل باہر سے بالکل خشک ہو اور ہلانے پر اندر سے پانی کی اچھی آواز آئے۔
غذائی ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر ناریل کے پانی سے کھٹا یا خمیر جیسا ذائقہ آئے، عجیب بدبو محسوس ہو، اس کا رنگ بدل جائے یا اس میں جھاگ بننے لگے تو اسے ہرگز نہ پیئیں۔ ایسا خراب پانی پینے سے پیٹ کی شدید بیماریاں اور فوڈ پوائزننگ ہو سکتی ہے۔ اس لیے صرف یہ سوچ کر کہ ناریل پانی قدرتی اور صحت بخش مشروب ہے، اسے خراب ہونے کے بعد پینا مناسب نہیں۔
ماہرین کی بنیادی ہدایت یہی ہے کہ تازہ ناریل پانی فوراً پی لیا جائے، جبکہ بچ جانے والے پانی کو جلد از جلد صاف، بند برتن میں ڈال کر فریج میں رکھا جائے اور بہتر ذائقے اور معیار کے لیے ایک دن کے اندر استعمال کرلیا جائے۔
















