لمبے وقفے کے بعد ورزش؟ ایک غلطی آپ کو اسپتال پہنچا سکتی ہے

ورزش دوبارہ شروع کرنے والے ہر شخص کا پروگرام اس کی عمر، جسمانی حالت اور صلاحیت کے مطابق ہونا چاہیے۔
شائع 07 اگست 2026 10:21am

اگر آپ نے کام کی مصروفیت، ذہنی دباؤ یا کسی بھی وجہ سے کافی عرصے سے ورزش یا ورزش کی روٹین چھوڑ رکھی تھی اور اب دوبارہ جم جانے یا ورزش شروع کرنے کا سوچ رہے ہیں، تو طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ پہلے جیسی سخت ورزش فوراً شروع کرنا نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ ڈاکٹرز کے مطابق جسم کو دوبارہ جسمانی سرگرمی کا عادی ہونے کے لیے وقت درکار ہوتا ہے، ورنہ پٹھوں میں شدید درد، تھکن اور یہاں تک کہ چوٹ لگنے کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔

مصروف دفتری زندگی، ذہنی دباؤ، لمبی میٹنگز یا دیگر ذاتی مصروفیات کی وجہ سے بہت سے لوگ ورزش چھوڑ دیتے ہیں۔ تاہم جب وہ دوبارہ ورزش شروع کرتے ہیں تو اکثر یہی سمجھتے ہیں کہ وہ پہلے والی رفتار اور شدت سے ورزش کر سکتے ہیں، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسا کرنا درست نہیں۔

طبی ماہرین کے مطابق لمبے وقفے کے بعد دوبارہ ورزش شروع کرنا خاصا مشکل محسوس ہو سکتا ہے۔ جب انسان کافی عرصے تک غیر فعال رہتا ہے تو اس سے جسم کی لچک، برداشت اور طاقت تینوں چیزیں متاثر ہوتی ہیں۔ یہ بات سمجھنا انتہائی ضروری ہے کہ جسم کو پرانی حالت میں واپس آنے کے لیے وقت چاہیے ہوتا ہے۔ اس لیے اچانک سخت ورزش شروع کرنے سے پٹھوں میں شدید درد اور تھکن ہو سکتی ہے۔

ڈاکٹرزکہتے ہیں کہ 30 سال سے زیادہ عمر کے کام کرنے والے افراد میں گھٹنے کی چوٹ کے باعث ہونے والے 75 فیصد سے زیادہ آپریشن ایسے لوگوں کے ہوتے ہیں جو طویل وقفے کے بعد اچانک کھیل یا سخت ورزش شروع کر دیتے ہیں۔ اس لیے پرانی رفتار کے بجائے آہستہ آہستہ شروعات کرنا ہی محفوظ طریقہ ہے۔

فٹنس ایکسپرٹس کا مشورہ ہے کہ ورزش کا آغاز ہمیشہ ہلکی پھلکی سرگرمیوں سے قدم بہ قدم کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ ورزش دوبارہ شروع کرنے والے ہر شخص کا پروگرام اس کی عمر، جسمانی حالت اور صلاحیت کے مطابق ہونا چاہیے۔ ایک فزیو تھراپسٹ یا ماہر کا کام روزانہ کی معمول کی ورزشیں کروانا نہیں بلکہ یہ بتانا ہے کہ جِم میں کیا کرنا چاہیے اور پھر وقت کے ساتھ اس کے طریقہ کار اور نتائج کا جائزہ لینا ہے۔

صحت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ورزش دوبارہ شروع کرتے وقت سب سے پہلے جسم کو اسٹریچنگ کے ذریعے تیار کرنا چاہیے تاکہ پٹھوں کی اکڑن کم ہو اور جسم حرکت کے لیے تیار ہو جائے۔ اس کے بعد ہلکی کارڈیو ورزش کی جائے تاکہ دل اور پھیپھڑوں کی کارکردگی بہتر ہو اور برداشت میں آہستہ آہستہ اضافہ ہو۔

انہوں نے بتایا کہ بنیادی ویٹ ٹریننگ بھی ضروری ہے کیونکہ اس سے پٹھے، ہڈیاں اور جوڑ مضبوط ہوتے ہیں اور ٹانگوں کو بہتر سہارا ملتا ہے۔ اس کے ساتھ ورزش کے دوران جسم کی درست پوزیشن برقرار رکھنا بھی بے حد اہم ہے تاکہ غیر ضروری دباؤ سے بچا جا سکے اور چوٹ لگنے کے امکانات کم ہوں۔

دوبارہ آغاز کرتے وقت پٹھوں کی لچک بڑھانے کے لیے کھنچاؤ کی ورزشیں، دل اور پھیپھڑوں کی صحت کے لیے ہلکی واک یا کارڈیو، پٹھوں کی مضبوطی کے لیے ہلکا وزن اٹھانا اور اٹھنے بیٹھنے کا درست طریقہ اپنانا بہت ضروری ہے۔ ورزش کے ساتھ ساتھ متوازن غذا، وافر پانی پینا اور پرسکون نیند لینا بھی پٹھوں کی بحالی کے لیے انتہائی اہم ہے۔

نوٹ: یہ معلومات عام آگاہی کے لیے ہیں اور اگر کسی شخص کو پہلے سے کوئی بیماری، چوٹ یا طبی مسئلہ لاحق ہو تو ورزش دوبارہ شروع کرنے سے پہلے اپنے معالج سے ضرور مشورہ کرنا چاہیے۔