میر رضا کی قبر کشائی، میڈیکل بورڈ کی تبدیلی پر وکیل کا پولیس سرجن کو ہنگامی نوٹس

مقتول کے ورثا نئے تشکیل دیے گئے میڈیکل بورڈ کے ذریعے قبر کشائی اور پوسٹ مارٹم کرانے پر رضامند نہیں ہیں: وکیل جبران ناصر
شائع 07 اگست 2026 10:00am

میر رضا علی کی قبر کشائی اور پوسٹ مارٹم کے لیے تشکیل دیے گئے میڈیکل بورڈ میں تبدیلی کے معاملے پر مقتول کے والد کے وکیل جبران ناصر نے پولیس سرجن کراچی اور سیکریٹری صحت کو ہنگامی قانونی نوٹس ارسال کردیا۔

ذرائع کے مطابق وکیل جبران ناصر کی جانب سے بھیجے گئے نوٹس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ عدالت کے احکامات کے مطابق میر رضا علی خان کی قبر کشائی اور پوسٹ مارٹم پہلے سے تشکیل دیے گئے میڈیکل بورڈ ہی سے کرایا جائے۔

نوٹس کے مطابق عدالت نے پولیس سرجن کراچی اور سیکریٹری صحت کو میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا حکم دیا تھا، جس کے بعد پولیس سرجن کراچی نے عدالتی احکامات کی روشنی میں 8 رکنی میڈیکل بورڈ تشکیل دیا تھا۔

وکیل کے مطابق مذکورہ میڈیکل بورڈ میں فرانزک اور پیتھالوجی کے ماہرین بھی شامل تھے، جبکہ مقتول کے ورثا نے اس اصل میڈیکل بورڈ پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا تھا۔

قانونی نوٹس میں کہا گیا ہے کہ متعلقہ ڈویژن کے تحت پولیس سرجن کو قبر کشائی کے لیے میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا اختیار حاصل ہے، تاہم 6 اگست کی رات ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ حیدرآباد کی جانب سے ایک نیا میڈیکل بورڈ تشکیل دے دیا گیا۔

جبران ناصر کے مطابق نئے بورڈ کی تشکیل کے دوران سابق میڈیکل بورڈ کے تمام ارکان کو تبدیل کردیا گیا، جس پر مقتول کے اہل خانہ کو شدید تحفظات ہیں۔

نوٹس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ڈی جی ہیلتھ حیدرآباد کی جانب سے میڈیکل بورڈ میں تبدیلی عدالتی احکامات کے منافی ہے، جبکہ ڈی جی ہیلتھ کو پولیس سرجن کراچی کے اختیارات میں مداخلت کا اختیار حاصل نہیں۔

وکیل نے واضح کیا کہ مقتول کے ورثا نئے تشکیل دیے گئے میڈیکل بورڈ کے ذریعے قبر کشائی اور پوسٹ مارٹم کرانے پر رضامند نہیں ہیں۔

نوٹس میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر نئے میڈیکل بورڈ کی جانب سے میر رضا علی خان کی قبر کشائی کی گئی تو اسے عدالتی حکم کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا۔

جبران ناصر کا کہنا ہے کہ میڈیکل بورڈ میں اچانک تبدیلی نے مقتول کے اہل خانہ کے خدشات کو مزید تقویت دی ہے، اس لیے عدالتی احکامات کے مطابق پہلے سے تشکیل دیے گئے اصل میڈیکل بورڈ کو ہی قبر کشائی اور پوسٹ مارٹم کا عمل مکمل کرنا چاہیے۔

انہوں نے پولیس سرجن کراچی اور سیکریٹری صحت سے مطالبہ کیا ہے کہ عدالتی احکامات پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے اور میڈیکل بورڈ کی تبدیلی کے معاملے کو فوری طور پر درست کیا جائے۔

تاحال ڈی جی ہیلتھ حیدرآباد کی جانب سے میڈیکل بورڈ میں تبدیلی کی وجوہات یا اس معاملے پر مؤقف سامنے نہیں آیا۔

اس سے قبل میر رضا علی کے والدین نے مؤقف اختیار کیا کہ جس میڈیکل بورڈ پر پہلے اعتماد کیا گیا تھا، اگر اسے تبدیل کرکے نئے ارکان پر مشتمل بورڈ کے ذریعے قبر کشائی اور پوسٹ مارٹم کی کوشش کی گئی تو وہ اس کی ہرگز اجازت نہیں دیں گے۔