ٹائٹل کا دفاع نہ کرنے پر تنقید، ارشد ندیم کا ناقدین کو جواب

سرد موسم اور ٹھنڈی ہواؤں کے باعث ان کی باڈی اکڑ گئی تھی، جس کی وجہ سے اپنی بہترین تھرو نہیں کرسکا: اولمپک چیمپئن
اپ ڈیٹ 04 اگست 2026 09:20pm

کامن ویلتھ گیمز میں ٹائٹل کا دفاع نہ کرنے پر سوشل میڈیا پر ہونے والی تنقید پر پاکستان کے اولمپک گولڈ میڈلسٹ اور عالمی شہرت یافتہ جیولن تھروور ارشد ندیم نے خاموشی توڑ دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرد موسم اور ٹھنڈی ہواؤں کے باعث ان کی باڈی اکڑ گئی تھی، جس کی وجہ سے وہ اپنی بہترین تھرو نہیں کر سکے۔

گلاسگو میں جاری کامن ویلتھ گیمز میں جیولن تھروور ایونٹ میں شرکت کے بعد قومی ہیرو ارشد ندیم نے اپنے آبائی شہر میاں چنوں میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ وہ خیریت سے اپنے وطن اور اپنے شہر واپس پہنچ گئے ہیں۔

ارشد ندیم نے کامن ویلتھ گیمز میں توقعات کے مطابق کارکردگی نہ دکھانے پر قوم سے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ مقابلے کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف تبصرے کیے جا رہے ہیں تاہم کھیل میں ہر کھلاڑی کا ایک اچھا اور ایک برا دن ہوتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ دنیا میں شاید ہی کوئی ایسا کھلاڑی ہو جو اپنی طرف سے مکمل کوشش نہ کرتا ہو، انہوں نے بھی پوری محنت اور دیانتداری سے اپنی بہترین کارکردگی دکھانے کی کوشش کی، مگر اللہ تعالیٰ کو کچھ اور منظور تھا۔

ارشد ندیم نے اپنی کارکردگی کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے پاکستان میں رہ کر گرم موسم میں ٹریننگ کی جب کہ مقابلے کے مقام پر موسم غیر معمولی طور پر سرد تھا اور ٹھنڈی ہوائیں چل رہی تھیں، اس وجہ سے ان کی باڈی اکڑ گئی اور وہ معمول کے مطابق رن اپ نہیں لے سکے، جس کے باعث اپنی بہترین تھرو کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے۔

اولمپک گولڈ میڈلسٹ نے مزید کہا کہ ماضی میں اکثر مقابلوں میں وہ خود فاؤل کرتے تھے کیوں کہ وہ پوری رفتار کے ساتھ رن اپ لیتے تھے لیکن اس مرتبہ سرد موسم کے باعث ان کا رن اپ ہی درست نہیں بن سکا حالاں کہ ان کی فٹنس مکمل طور پر بہتر تھی اور تیاری میں کوئی کمی نہیں تھی۔

اولمپک چیمپئن نے کہا کہ وہ تسلیم کرتے ہیں کہ اس مرتبہ پاکستانی قوم ان سے بہتر کارکردگی کی توقع کر رہی تھی اور وہ قوم کو مایوس کر گئے تاہم انہوں نے اپنی طرف سے کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ انہوں نے کہا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ہر فیصلے پر راضی ہیں کیوں کہ جو اللہ کو منظور ہوتا ہے، وہی ہوتا ہے۔

ارشد ندیم نے کہا کہ کھیل میں اتار چڑھاؤ آتے رہتے ہیں، کبھی کھلاڑی کامیاب ہوتا ہے اور کبھی ناکامی کا سامنا کرتا ہے، یہی اسپورٹس کا حسن ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ انہوں نے ہرگز حوصلہ نہیں ہارا بلکہ پہلے سے زیادہ عزم کے ساتھ آئندہ مقابلوں کی تیاری کریں گے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ان کی تیاری اچھی ہے اور اب ان کی تمام توجہ آنے والے بین الاقوامی مقابلوں پر مرکوز ہے۔ ان کے مطابق 11 سے 13 ستمبر تک ہنگری کے شہر بڈاپسٹ میں ورلڈ ایتھلیٹکس چیمپئن شپ منعقد ہوگی جب کہ ستمبر کے آخر میں ایشین گیمز ہوں گے، جن میں وہ بھرپور تیاری کے ساتھ شرکت کریں گے۔

قومی ہیرو کا کہنا تھا کہ حالیہ مقابلے میں ہونے والی معمولی غلطیوں کو دور کیا جائے گا اور وہ آئندہ ایونٹس میں پہلے سے بہتر کارکردگی دکھانے کی کوشش کریں گے تاکہ ایک بار پھر پاکستان کا نام دنیا بھر میں روشن کر سکیں۔

ارشد ندیم نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے جو کام لیا ہے، اس کے ذریعے پاکستان کو دنیا بھر میں عزت ملی ہے اور یہ مقام برسوں کی مسلسل محنت کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان میں رہ کر سخت محنت کی، جس کے بعد اللہ تعالیٰ نے انہیں اور پاکستان کو عالمی سطح پر عزت سے نوازا۔

سوشل میڈیا پر ہونے والی تنقید کے حوالے سے ارشد ندیم نے کہا کہ انہوں نے کچھ منفی تبصرے دیکھے ہیں، جن سے انہیں دکھ ضرور ہوا لیکن وہ پاکستان کے بیٹے ہیں اور ہمیشہ رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی قوم ان کی اپنی قوم ہے، اگر وہ ناراضی کا اظہار کرتی ہے تو وہ اسے بھی اپنا حق سمجھتے ہیں تاہم اس وقت انہیں قوم کی حوصلہ افزائی اور دعاؤں کی زیادہ ضرورت ہے۔

انہوں نے پاکستانی عوام سے اپیل کی کہ دل چھوٹا نہ کریں اور ان کا ساتھ دیں تاکہ ان کا حوصلہ بھی بلند رہے اور وہ آئندہ مقابلوں میں مزید اعتماد کے ساتھ میدان میں اتریں۔ ان کا کہنا تھا کہ قوم کی دعائیں اور اعتماد ہی ان کی سب سے بڑی طاقت ہیں۔

ارشد ندیم نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ بھرپور محنت جاری رکھیں گے، کسی صورت ہمت نہیں ہاریں گے اور انشاء اللہ آنے والے تمام بین الاقوامی مقابلوں میں پوری تیاری کے ساتھ حصہ لے کر ایک مرتبہ پھر پاکستان کا پرچم بلند کریں گے۔

آخر میں انہوں نے پوری قوم سے خصوصی دعا کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے اب تک ان سے پاکستان کے لیے جو اعزازات حاصل کروائے ہیں، وہ اسی کی مہربانی ہے اور انہیں یقین ہے کہ آئندہ بھی اللہ تعالیٰ انہیں پاکستان کا نام مزید روشن کرنے کی توفیق عطا فرمائے گا۔

یاد رہے کہ کامن ویلتھ گیمز میں پاکستان کے اولمپک گولڈ میڈلسٹ ارشد ندیم اپنے اعزاز کا دفاع کرنے میں ناکام رہے تھے اور جیولن تھرو کے فائنل میں ٹاپ 8 میں بھی جگہ نہیں بناسکے تھے جب کہ سونے کا تمغہ سری لنکن جیولن تھرور رومیش تھارانگا کے نام رہا تھا۔