امریکی ہتھیاروں کے ذخیرے میں کمی پر ٹرمپ اور وزیرِ جنگ میں جھگڑے کا دعویٰ، وائٹ ہاؤس کا بیان آگیا

صدر ٹرمپ کو وزیر دفاع ہیگستھ پر مکمل اعتماد ہے: کیرولین لیویٹ
شائع 06 اگست 2026 11:25am

امریکی اخبار دی واشنگٹن پوسٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیمپ ڈیوڈ میں ہونے والے ایک اجلاس کے دوران وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ سے امریکی فوج کے اہم میزائلوں اور گولہ بارود کی شدید کمی پر سخت سوالات کیے۔ تاہم وائٹ ہاؤس اور پینٹاگون نے اس رپورٹ کو مکمل طور پر غلط اور بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔

واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق کیمپ ڈیوڈ میں ہونے والے اجلاس کے دوران صدر ٹرمپ نے وزیر دفاع سے پوچھا کہ انہیں اس بات سے مکمل طور پر آگاہ کیوں نہیں کیا گیا کہ امریکی فوج کے میزائلوں کے ذخائر اتنی تیزی سے کم ہو چکے ہیں۔ اخبار نے معاملے سے واقف دو افراد کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ میرا خیال تھا کہ اسلحے کی کمی کا مسئلہ حل ہو چکا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ طویل فاصلے تک مار کرنے والے جدید میزائلوں اور فضائی دفاعی نظام میں استعمال ہونے والے انٹرسیپٹر میزائلوں کی کمی کے باعث صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف مزید بڑے فوجی حملوں کی منظوری دینے سے گریز کیا اور یہی کمی امریکی فیصلوں پر اثر انداز ہوئی۔

واشنگٹن پوسٹ کے مطابق یہ مبینہ تلخ گفتگو ایسے وقت میں ہوئی جب چند روز قبل صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ انہوں نے دوسری جنگ عظیم کے بعد سب سے بڑے حملے کا حکم دیا تھا، تاہم آبنائے ہرمز سے متعلق نئی سفارتی بات چیت کی وجہ سے بعد میں اس کارروائی کو روک دیا گیا۔

اخبار کے مطابق ایران کے ساتھ پانچ ماہ سے زائد عرصے سے جاری لڑائی کے دوران امریکی فوج نے اپنے اہم میزائلوں کے ذخائر تیزی سے استعمال کیے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ صرف پہلے مہینے میں امریکی فوج نے 850 سے زائد ٹوماہاک کروز میزائل، ایک ہزار سے زیادہ پیٹریاٹ اور تھاڈ انٹرسیپٹر میزائل اور 1300 سے زائد اے ٹی اے سی ایم ایس میزائل استعمال کیے۔

رپورٹ میں ایک ذرائع کے حوالے سے کہا گیا کہ اے ٹی اے سی ایم ایس میزائلوں کا ذخیرہ تقریباً ختم ہو چکا ہے، اب بنیادی طور پر کچھ بھی باقی نہیں بچا۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ اس کمی کے باعث یوکرین کو امریکی فوجی امداد بھی متاثر ہوئی ہے کیونکہ مغربی ممالک کے فضائی دفاعی ذخائر بھی کم ہوتے جا رہے ہیں۔ بتایا گیا کہ پینٹاگون اب ہر آنے والے خطرے کا جائزہ اس کی سمت اور ممکنہ نقصان کو دیکھتے ہوئے لے رہا ہے تاکہ فیصلہ کیا جا سکے کہ اسے روکنے کے لیے قیمتی انٹرسیپٹر میزائل استعمال کیے جائیں یا نہیں۔

واشنگٹن پوسٹ کے مطابق وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے اجلاس میں اپنا دفاع کرتے ہوئے الزام لگایا کہ نائب وزیر دفاع اسٹیفن فائن برگ صدر ٹرمپ کو اسلحے کی کمی کی مکمل صورتحال سے آگاہ کرنے میں ناکام رہے۔

دوسری جانب وائٹ ہاؤس اور پینٹاگون نے ان تمام دعوؤں کو سختی سے مسترد کر دیا۔

وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ میں کیمپ ڈیوڈ میں صدر ٹرمپ اور وزیر دفاع ہیگستھ کے ساتھ موجود تھی۔ یہ واقعہ سرے سے پیش ہی نہیں آیا۔ ہم نے واشنگٹن پوسٹ کو بھی بار بار یہی بتایا تھا۔ یہ مکمل طور پر جھوٹی کہانی ہے جس کا مقصد کسی نہ کسی وجہ سے وزیر دفاع کو بدنام کرنا ہے۔ بدقسمتی سے ان لوگوں کے لیے صدر ٹرمپ وزیر دفاع سے محبت کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ وہ بہترین کام کر رہے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ کو وزیر دفاع ہیگستھ پر مکمل اعتماد ہے۔

پینٹاگون کے چیف ترجمان شان پارنیل نے بھی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وزیر دفاع ہیگستھ نے کسی کو بھی اسلحے کی صورتحال کے بارے میں گمراہ نہیں کیا اور نہ ہی انہوں نے نائب وزیر دفاع فائن برگ پر الزام لگایا۔ میزائلوں کے ختم ہونے، اندرونی اختلافات یا ایران سے متعلق وزیر دفاع کے مؤقف کے بارے میں کیے گئے تمام دعوے یکساں طور پر فرضی ہیں۔

واشنگٹن پوسٹ کا کہنا ہے کہ اگرچہ انتظامیہ ان دعوؤں کی تردید کر رہی ہے، لیکن ایران کے ساتھ جنگ کے اخراجات اور کم ہوتے فوجی ذخائر کی وجہ سے امریکی حکومت کانگریس سے مزید 67 ارب ڈالر کی منظوری مانگ رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ، نائب وزیر دفاع اسٹیفن فائن برگ اور جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین نے کانگریس سے یہ اضافی فنڈ فراہم کرنے کی درخواست کی ہے تاکہ فوجی ذخائر دوبارہ بھرے جا سکیں۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اگلے مالی سال کے لیے پینٹاگون کے تقریباً ڈیڑھ کھرب ڈالر کے دفاعی بجٹ میں میزائلوں کی تیاری کے لیے بھی اربوں ڈالر مختص کیے گئے ہیں، تاہم کانگریس میں سیاسی اختلافات کے باعث اس منصوبے کی منظوری میں تاخیر ہو رہی ہے۔

دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید میزائلوں کی تیاری میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔ فاؤنڈیشن فار ڈیفنس آف ڈیموکریسیز کے سینئر ڈائریکٹر بریڈ بومن نے واشنگٹن پوسٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جب تک کانگریس فنڈز منظور نہیں کرتی اور معاہدوں پر دستخط نہیں ہوتے، فیکٹریوں میں پیداوار شروع نہیں ہو سکتی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ضروری رقم خرچ کرنے، معاہدے مکمل کرنے اور ہتھیار فوج تک پہنچنے میں اکثر کئی سال لگ جاتے ہیں۔ صرف ایک بٹن دبانے سے میزائل فوراً فوجیوں کے ہاتھ میں نہیں آ جاتے۔

اُدھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان خبروں کو مسترد کر دیا ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) کے میزائلوں اور دیگر اسلحے کے ذخائر کم ہو رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ امریکا کے پاس ہتھیاروں اور گولہ بارود کے بہت بڑے ذخائر موجود ہیں اور ان میں مسلسل اضافہ بھی کیا جا رہا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا کے پاس خاص طور پر بعض اقسام کے گولہ بارود کی بہت بڑی مقدار موجود ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ضرورت کے مطابق بڑی مقدار میں اسلحہ تیار کیا جا رہا ہے اور امریکا بھیجا جا رہا ہے۔ دفاعی کمپنیاں ہمارے ملک کی تاریخ میں سب سے زیادہ تعداد میں نئے پلانٹس اور فیکٹریاں قائم کر رہی ہیں۔

امریکی صدر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بعض میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ پینٹاگون کے میزائلوں کے ذخائر میں کمی آ رہی ہے، تاہم ٹرمپ نے ان رپورٹس کو درست تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔

ٹرمپ نے ان اطلاعات کے ذرائع پر بھی سخت تنقید کرتے ہوئے خبردار کیا کہ ایسی معلومات لیک کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔

انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ ان غداری پر مبنی بیانات کو لیک کرنے والوں کی تلاش جاری ہے۔

ٹرمپ نے مزید لکھا، ان افراد کے لیے طویل مدت کی قید کی سزا حاصل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

تاحال پینٹاگون کی جانب سے ٹرمپ کے اس بیان یا میڈیا میں سامنے آنے والی رپورٹس پر کوئی نیا باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ اس معاملے پر مختلف ذرائع کے دعوے اور امریکی صدر کا مؤقف ایک دوسرے سے مختلف ہیں، جس کے باعث صورتحال پر مزید وضاحت کا انتظار کیا جا رہا ہے۔