'آبنائے ہرمز آج کُھل جائے گی': ٹرمپ کا دعویٰ؛ ایران کا انکار

عمان کے ساتھ جہاز رانی سے متعلق ممکنہ معاہدے کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ آبنائے ہرمز کو فوری کھول دیا جائے گا: ایران
شائع 05 اگست 2026 02:20pm

آبنائے ہرمز کی بندش اور خطے میں جاری جنگ کے خاتمے سے متعلق مذاکرات میں تیزی آ گئی ہے، تاہم واشنگٹن اور تہران کے بیانات میں شدید تضاد برقرار ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو کیلیفورنیا میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”آبنائے ہرمز سے متعلق معاہدہ آج یعنی بدھ کے روز سامنے آ سکتا ہے، اس سلسلے میں بہت پیش رفت ہوئی ہے“۔

واضح رہے کہ عالمی معیشت کی شاہراہ سمجھے جانے والے اس راستے کی بندش سے دنیا بھر میں ایندھن اور اشیائے ضروریہ کی قیمتیں آسمان پر پہنچ چکی ہیں اور ٹرمپ کو رواں سال ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل اس جنگ کو ختم کرنے کے لیے اندرونی دباؤ کا سامنا ہے، جس کی امید پر عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں 1.2 فیصد تک نیچے آ گئی ہیں۔

دوسری جانب ایران نے امریکا کے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ عمان کے ساتھ جاری بات چیت کا واشنگٹن سے کوئی تعلق نہیں۔

ایرانی قومی سلامتی کمیٹی کے رکن اور رکنِ پارلیمنٹ اسماعیل کوثری نے ٹرمپ کے رویے کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ”ٹرمپ کا مذاکرات کا طریقہ کار متضاد اور ناقابلِ اعتماد ہے۔ ٹرمپ نے 75 بار یہ جھوٹا دعویٰ کیا کہ آبنئاے ہرمز کھلی ہوئی ہے، 106 بار ایران کی شکست اور 88 بار فوری معاہدے کا اعلان کیا ہے“۔

اس کے ساتھ ہی ایرانی میڈیانے سرکاری ذرائع کے حوالے سے کہا کہ ”عمان کے ساتھ جہاز رانی سے متعلق ممکنہ معاہدے کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ آبنائے ہرمز کو فوری کھول دیا جائے گا۔ جب تک امریکی خلاف ورزیاں بند نہیں ہوتیں اور واشنگٹن اپنا رویہ درست نہیں کرتا، یہ راستہ بند رہے گا“۔

اس وقت بھی آبنائے ہرمز اور باب المندب میں بحری جہازوں کی آمد و رفت حد سے زیادہ محدود ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق جنگ سے پہلے جہاں روزانہ 130 سے 140 بحری جہاز ہرمز سے گزرتے تھے، وہاں اب یہ تعداد محض 8 جہازوں تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔

یمن کے حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کی ناکہ بندی کے بعد باب المندب کے راستے سے گزرنے والے جہازوں کی تعداد بھی آدھی رہ گئی ہے۔

تہران کا کہنا ہے کہ وہ عمان کے ساتھ مل کر نئے بحری راہداری کے انتظام پر غور کر رہا ہے، لیکن امریکی فوجی دھمکیوں اور مداخلت کے باعث ان کوششوں میں رکاوٹیں پیش آ رہی ہیں۔