وزیراعظم شہباز شریف تین روزہ سرکاری دورے پر سعودی عرب پہنچ گئے
وزیراعظم شہباز شریف سعودی ولی عہد اور وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان کی دعوت پر تین روزہ سرکاری دورے پر سعودی عرب پہنچ گئے ہیں۔ وزیراعظم شہبازشریف کے دورہ سعودی عرب میں دوطرفہ تعلقات، سرمایہ کاری، تجارت، اقتصادی تعاون، اسٹریٹجک شراکت داری اور خطے کی تازہ صورت حال پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
وزیراعظم شہباز شریف جمعرات کو سعودی عرب کے تین روزہ سرکاری دورے پر جدہ پہنچے، جہاں مکہ کے نائب گورنر شہزادہ سعود بن مشال نے ان کا استقبال کیا۔
وزیراعظم کے ہمراہ اعلیٰ سطح کا پاکستانی وفد بھی سعودی عرب پہنچا ہے، جس میں چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر دفاع خواجہ آصف، وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اور وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی شامل ہیں۔
دورہ سعودی عرب کے دوران وزیرِ اعظم شہباز شریف کی سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے ساتھ ملاقات ہوگی جس میں پاکستان اور سعودی عرب کے مابین دیرینہ برادرانہ تعلقات اور شراکت داری کو مزید مضبوط کرنے اور خطے کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
وزیرِ اعظم اپنے دورے کے دوران عمرہ کی ادائیگی کریں گے اور مدینہ منورہ میں روضہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر حاضری بھی دیں گے.
ترجمان دفترِ خارجہ طاہر حسین اندرابی نے جمعرات کے روز اسلام آباد میں ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف کا دورہ سعودی عرب چھ سے آٹھ اگست تک جاری رہے گا، اس موقع پر ان کی سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات بھی طے ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس اعلیٰ سطح ملاقات میں پاک سعودی تعلقات، دوطرفہ تعاون، سرمایہ کاری اور خطے کی مجموعی صورتحال سمیت متعدد باہمی دلچسپی کے امور پر تفصیلی گفتگو کی جائے گی۔
دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے اس تین روزہ سرکاری دورے کو غیر معمولی اہمیت کا حامل قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ دورہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دیرینہ اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان، سعودی عرب اور دیگر اسلامی ممالک کے ساتھ مل کر مسلسل سفارتی رابطوں کے ذریعے خطے میں امن، استحکام اور باہمی تعاون کے فروغ کے لیے پُرعزم ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ ”ہم آبنائے ہرمز کے مسئلے پر ثالثی کا کردار ادا کرنے کے لیے بھرپور سفارتی کوششیں کر رہے ہیں اور اس بحری راستے سے متعلق کوئی بھی معاہدہ بہت اہم اہمیت کا حامل ہے“۔
انہوں نے عمان کے مثبت کردار کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ”ہم پیش رفت سے متعلق عمان کے مؤثر اقدام کو سراہتے ہیں اور امید ہے کہ کسی بھی حتمی معاہدے کے بعد تمام تر مسائل خود بخود حل کی طرف بڑھیں گے“۔
طاہر اندرابی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اسلامی ممالک کے ساتھ مل کر خطے میں امن و استحکام کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس سلسلے میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی پانچ اگست کو اردن میں القدس سے متعلق منعقدہ وزارتی اجلاس میں شرکت کی، جہاں انہوں نے اردن، ترکیہ، مصر، الجزائر، ایران اور صومالیہ کے ہم منصبوں سے الگ الگ ملاقاتیں کیں اور ایرانی وزیر خارجہ کو پاکستان آنے کی دعوت بھی دی۔
طاہر اندرابی کے مطابق، اجلاس کے شرکاء نے متفقہ طور پر زور دیا کہ مشرق وسطیٰ میں دیرپا امن کا واحد طریقہ مسئلہ فلسطین کا منصفانہ حل ہے۔ اجلاس میں اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر ایک خودمختار فلسطینی ریاست قائم کی جائے جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔
ترجمان دفترِ خارجہ کے مطابق، سفارتی سطح پر پاکستان اور امریکا کے درمیان انسداد دہشت گردی پر مذاکرات کا نیا دور بھی منعقد ہوا، جس میں پاکستانی وفد کی قیادت امریکا میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ نے کی۔ دونوں ممالک نے خطے میں امن کے قیام، سرحدی سلامتی کی بہتری اور دہشت گرد نیٹ ورکس کے خاتمے کے لیے باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے مقبوضہ کشمیر اور بھارتی اقدامات کے حوالے سے بھارتی وزارتِ خارجہ کے بیان کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ”ہم بھارتی بیان کو کھلے عام رد کرتے ہیں، کیونکہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی مسلسل کوششیں کر رہا ہے، تاہم یہ حربے کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کو ہرگز ختم نہیں کر سکتے“۔
دیگر علاقائی و بین الاقوامی امور پر گفتگو کرتے ہوئے ترجمان نے بنگلہ دیش کے حوالے سے کہا کہ ”پاکستان کسی بھی ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلا نہیں کرتا اور آئی ایس آئی کے کردار پر بھارتی الزام تراشی کو مکمل طور پر مسترد کرتا ہے“۔
انہوں نے غزہ کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ”غزہ میں اسرائیل کی ذمہ داریوں پر مسلسل نظر رکھنے کی اشد ضرورت ہے جبکہ وہاں امن دستے بھیجنے سے متعلق سوال فی الحال قبل از وقت ہے“۔
ترجمان نے بحیرہ احمر اور باب المندب میں سعودی تجارتی جہازوں پر ہونے والے حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور کہا کہ ”پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرنے اور امن کے قیام کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کرتا رہے گا“۔
انہوں نے کہا کہ ”افغانستان کی سرزمین سے متحرک دہشت گرد گروہ پورے خطے کی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں اور ان نیٹ ورکس کو بھارت کی جانب سے مالی امداد فراہم کی جا رہی ہے، بالخصوص بی ایل اے کو بھارت کی مالی حمایت میسر ہے“۔
افغانستان کے علاقے بدخشاں میں طالبان اور ان کے مخالف گروہوں کی جھڑپوں سے متعلق انہوں نے کہا کہ ”یہ افغانستان کا بالکل اندرونی معاملہ ہے“۔
بریفنگ کے اختتام پر صومالیہ میں یرغمال پاکستانیوں کا ذکر کرتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ نے افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ ”صومالیہ سے اپنے یرغمال شہریوں کی فوری رہائی ممکن نہ ہونے پر ہم نہایت افسردہ اور غمگین ہیں، لیکن یہ معاملہ ہمارے ریڈار پر مکمل طور پر زندہ ہے اور ان کی محفوظ رہائی کے لیے تمام ممکنہ کوششیں مسلسل جاری ہیں“۔













اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔