سعودی عرب نے موٹاپے کے علاج کے لیے نئی دوا کی منظوری دے دی

سعودی فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ دوا کی منظوری کلینیکل مطالعات کے نتائج کی بنیاد پر دی گئی ہے۔
شائع 04 اگست 2026 02:31pm
فوٹو۔۔۔۔ اے آئی جنریٹڈ
فوٹو۔۔۔۔ اے آئی جنریٹڈ

سعودی عرب کی سعودی فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی نے موٹاپے کے علاج کے لیے استعمال ہونے والی نئی دوا ”فاونڈائیو“ (اورفورگلیپرون) کی رجسٹریشن کی منظوری دے دی ہے۔ اتھارٹی کے مطابق اس فیصلے کا مقصد موٹاپے کے شکار افراد کے لیے علاج کے مزید مؤثر آپشنز فراہم کرنا اور صحت کی سہولیات کے معیار کو بہتر بنانا ہے۔

یہ اقدام سعودی ویژن 2030 کے تحت ہیلتھ سیکٹر ٹرانسفارمیشن پروگرام کے اہداف کے مطابق قرار دیا گیا ہے۔

خلیج ٹائمز کے مطابق اتھارٹی کا کہنا ہے کہ یہ دوا موٹاپے کا شکار بالغ افراد اور ایسے لوگوں کے لیے استعمال کی جا سکتی ہے جو زیادہ وزن کے ساتھ وزن سے متعلق کم از کم ایک بیماری میں مبتلا ہوں۔ دوا کا مقصد اضافی وزن کم کرنے کے ساتھ ساتھ طویل عرصے تک وزن کو برقرار رکھنے میں مدد فراہم کرنا ہے۔ اس دوا کی تجویز کردہ خوراک میں روزانہ صرف ایک گولی کھائی جاسکتی ہے۔

”فاونڈایو“ (Foundayo) جسم میں موجود گلوکاکون جیسے پیپٹائڈ (جی ایل پی - 1) رسیپٹرز کو متحرک کرتی ہے، جو بھوک اور خون میں شوگر کی سطح کو کنٹرول کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اتھارٹی کے مطابق اس کے نتیجے میں بھوک کم محسوس ہوتی ہے، خوراک کی مقدار گھٹتی ہے اور متوازن غذا و باقاعدہ ورزش کے ساتھ وزن کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔

سعودی وزارت صحت کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق مملکت میں 18 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد میں موٹاپے کی شرح 20.2 فیصد جبکہ زیادہ وزن کی شرح 38.2 فیصد ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق خواتین میں موٹاپے کی شرح 21.4 فیصد ہے، جبکہ مردوں میں یہ شرح 19.2 فیصد ہے۔

سعودی فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ دوا کی منظوری کلینیکل مطالعات کے نتائج کی بنیاد پر دی گئی۔ ان مطالعات سے ظاہر ہوا کہ یہ دوا ہدف بنائے گئے مریضوں میں وزن کم کرنے کی مؤثر صلاحیت رکھتی ہے۔ اس جائزے میں تیسرے مرحلے کی دو بنیادی کلینیکل اسٹڈیز شامل تھیں، جو 72 ہفتوں تک جاری رہیں۔

پہلی تحقیق میں موٹاپے کا شکار 3,127 ایسے بالغ افراد شامل تھے جو ذیابیطس کا شکار نہیں تھے۔ نتائج کے مطابق 36 ملی گرام خوراک استعمال کرنے والے افراد کے جسمانی وزن میں اوسطاً 11.2 فیصد کمی دیکھی گئی، جبکہ پلاسیبوافیکٹ لینے والے گروپ میں یہ کمی صرف 2.1 فیصد رہی۔

دوسری تحقیق میں موٹاپے کے ساتھ ٹائپ ٹو ذیابیطس میں مبتلا 1,613 بالغ افراد کو شامل کیا گیا۔ اس تحقیق میں بھی 36 ملی گرام خوراک استعمال کرنے والے شرکاء کے جسمانی وزن میں اوسطاً 9.6 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ پلاسیبو گروپ میں وزن میں اوسط کمی 2.5 فیصد رہی۔

اس سے قبل متحدہ عرب امارات میں بھی اپریل 2026 میں امارات ڈرگ اسٹیبلشمنٹ نے ”فاونڈائیو“ کی منظوری دی تھی۔ تاہم طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دوا ہر مریض کے لیے مناسب نہیں اور اس کا استعمال صرف ڈاکٹر کی نگرانی میں ہونا چاہیے۔

ماہرین کے مطابق دوا شروع کرنے سے پہلے مریض کا مکمل طبی معائنہ ضروری ہے، جس میں وزن اور باڈی ماس انڈیکس (بی ایم آئی)، خون میں شوگر کی مقدار، چکنائی کی سطح، جگر، گردوں اور تھائیرائیڈ کے افعال کا جائزہ اور مریض کی ذاتی و خاندانی طبی تاریخ شامل ہوتی ہے۔ بعض مریضوں کی حالت کے مطابق مزید ٹیسٹ بھی تجویز کیے جا سکتے ہیں۔

سعودی فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی نے بتایا کہ دوا کے عام مضر اثرات میں متلی، قبض، اسہال، قے، بدہضمی، پیٹ میں درد، اپھارہ، تھکاوٹ اور بعض افراد میں بال گرنے کی شکایت شامل ہو سکتی ہے۔

اتھارٹی نے خبردار کیا ہے کہ یہ دوا ایسے افراد کے لیے موزوں نہیں جنہیں خود یا ان کے خاندان میں کسی فرد کو تھائیرائیڈ کینسر کی بعض اقسام یا ان سے متعلق موروثی بیماریاں رہی ہوں۔ اتھارٹی نے زور دیا کہ دوا کا استعمال صرف مستند ڈاکٹر کی نگرانی میں کیا جائے اور علاج کے دوران مریض کا باقاعدہ طبی معائنہ جاری رکھا جائے۔