ایک دن میں کتنے انڈے کھانا خطرناک ہے؟

کسی بھی غذائی شے کا حد سے زیادہ استعمال ٹھیک نہیں ہوتا اور انڈے بھی اس سے مستثنیٰ نہیں۔
شائع 30 جولائ 2026 03:16pm

انڈے دنیا بھر میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والی غذاؤں میں شمار ہوتے ہیں، لیکن برسوں سے اس کے بارے میں مختلف آراء سامنے آتی رہی ہیں۔ کبھی اسے کولیسٹرول بڑھانے والا قرار دیا گیا تو کبھی اسے مکمل اور صحت بخش غذا کہا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے لوگ آج بھی یہ جاننا چاہتے ہیں کہ آیا روزانہ انڈے کھانا محفوظ ہے، زردی کھانی چاہیے یا نہیں، اسے ابال کر کھانا بہتر ہے یا فرائی کر کے اور ایک دن میں کتنے انڈے کھانا مناسب ہے؟

ماہرینِ غذائیت کا کہنا ہے کہ انڈا طاقت کا خزانہ ہے۔ یہ متعدد اہم غذائی اجزا سے بھرپور ہوتا ہے اور جسم کو کئی طرح کے فوائد پہنچاتا ہے۔ ایک انڈے میں تقریبا 6 سے 7 گرام تک بہترین پروٹین پایا جاتا ہے جبکہ اس میں جسم کے لیے ضروری تمام نو امائنو ایسڈز بھی موجود ہیں۔

اس کے علاوہ انڈا وٹامن ڈی، وٹامن بی 12، سیلینیم، کولین اور صحت بخش چکنائی کا بھی اچھا ذریعہ ہے۔ بہت سے لوگ زردی کو پھینک دینے کی غلطی کرتے ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ انڈے کی زردی میں وٹامن اے، ڈی، ای اور بی12جیسے اہم ترین وٹامنز دماغ اور آنکھوں کی صحت کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔

یہ سوال کہ ایک دن میں کتنے انڈے کھائے جائیں تو اس کا جواب ہر شخص کے لیے مختلف ہو سکتا ہے۔ تاہم اعتدال ضروری ہے۔ غذائی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک تندرست بالغ انسان متوازن غذا کے ساتھ ہفتے میں تین سے چار بار روزانہ ایک انڈا کھا سکتا ہے۔

بچوں کی نشوونما کے لیے انہیں روزانہ ایک انڈا دیا جا سکتا ہے، جبکہ دل کے مریضوں یا جن کا کولیسٹرول زیادہ رہتا ہو، انہیں اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کر کے انڈے کی تعداد طے کرنی چاہیے۔

امریکہ کی ہارٹ ایسوسی ایشن کی تحقیق بھی یہی کہتی ہے کہ ایک صحت مند انسان کے لیے روزانہ ایک انڈا کھانا بالکل محفوظ ہے۔ ایک پورا انڈا دل کی صحت کے لیے نقصان دہ نہیں سمجھا جاتا، بشرطیکہ اس کی مجموعی غذا متوازن ہو۔

انڈا پکانے کا طریقہ بھی اس کی غذائیت پر اثر انداز ہوتا ہے۔ انڈے کو ابال کر یا ہلکا سا بھون کر کھانا سب سے بہترین طریقہ ہے کیونکہ اس میں اضافی گھی یا تیل کا استعمال نہیں ہوتا۔

ماہرین کا مشورہ ہے کہ انڈے کو سبزیوں، دلیہ یا روٹی کے ساتھ کھانا چاہیے تاکہ جسم کو فائبر بھی مل سکے۔ اس کے علاوہ خام یا کچا انڈا کھانے سے پرہیز کرنا چاہیے کیونکہ پکا ہوا انڈا ہضم کرنا آسان ہوتا ہے اور بیماریاں پھیلانے والے جراثیم سے نجات ملتی ہے۔

برسوں تک انڈے کو دل کے لیے نقصان دہ سمجھا جاتا رہا، لیکن امریکہ کی ہارٹ ایسوسی ایشن کے مطابق اگر انڈا ایک حد میں رہ کر اور متوازن غذا کے ساتھ کھایا جائے تو اس سے دل کی بیماریوں کا خطرہ نہیں بڑھتا۔

ماہرینِ صحت کے مطابق کسی بھی غذائی شے کا حد سے زیادہ استعمال ٹھیک نہیں ہوتا اور انڈے بھی اس سے مستثنیٰ نہیں۔ اگر کوئی شخص صرف انڈوں پر انحصار کرے اور دیگر پروٹین والی غذاؤں کو نظر انداز کر دے تو اس کی غذا میں توازن برقرار نہیں رہتا۔

بہت زیادہ انڈے کھانے اور فائبر والی چیزیں نہ لینے سے پیٹ پھولنے اور قبض کی شکایت ہو سکتی ہے۔ انڈے سے کچھ لوگوں میں کولیسٹرول کی سطح میں معمولی اضافہ ہو سکتا ہے، اگرچہ اس کے اثرات ہر شخص میں مختلف ہو سکتے ہیں ۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ انڈا ایک انتہائی مفید اورغذائیت سے بھرپور خوراک ہے، جسے مناسب مقدار میں متوازن غذا کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ انڈے کس طرح پکائے جاتے ہیں، کن غذاؤں کے ساتھ کھائے جاتے ہیں اور مجموعی طور پر انسان کی روزمرہ خوراک کتنی متوازن ہے۔