میعاد ختم ہونے کی تاریخ پر کھانا کیوں نہیں پھینکنا چاہیے؟

اسے پھینک کر پیسے اور خوراک ضائع کرنے کے بجائے استعمال میں لایا جا سکتا ہے۔
شائع 30 جولائ 2026 12:10pm

گھر میں دودھ، دہی، بسکٹ یا دیگر اشیائے خورونوش کے پیکٹس پر لکھی تاریخ گزرنے کے بعد اکثر لوگ انہیں فوراً کچرے میں پھینک دیتے ہیں۔ تاہم، ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسا کرنا ہر صورت میں ضروری نہیں ہوتا، کیونکہ بہت سی غذائیں تاریخ گزرنے کے بعد بھی قابلِ استعمال ہوتی ہیں۔

ماہرینِ صحت کا کہنا ہے کہ یہ ایک بڑی غلط فہمی اور خوراک کا بلاوجہ ضیاع ہے۔ پیکیجنگ پر لکھی زیادہ تر تاریخوں کا تعلق خوراک کے خراب ہونے سے نہیں بلکہ اس کے ذائقے اور معیار سے ہوتا ہے۔

2019 میں جانز ہاپکنز بلومبرگ اسکول آف پبلک ہیلتھ کی ایک تحقیق کے مطابق امریکا میں 80 فیصد سے زیادہ صارفین کم از کم کبھی کبھار ایسی خوراک ضائع کر دیتے ہیں جس کے پیکٹ پر درج تاریخ قریب آ چکی ہو یا گزرنے والی ہو۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ”بیسٹ بی فور“، ”بیسٹ بائے“، ”یوز بائے“، “انجوائے بائے “ اور ”سیل بائے“ جیسی اصطلاحات لوگوں کے لیے الجھن کا باعث بنتی ہیں۔

اے پی میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ کی روٹگرز یونیورسٹی کے خوراک کی حفاظت کے ماہر ڈونلڈ شافنر کا کہنا ہے کہ ڈبوں پر لکھی یہ تاریخیں صرف اس بات کی ضمانت دیتی ہیں کہ اس وقت تک چیز کا معیار اور ذائقہ سب سے بہترین رہے گا، ان تاریخوں کا تعلق کسی خوراک کے زہریلا یا ناپاک ہونے سے نہیں ہوتا اور یہ ضروری نہیں کہ اس کے بعد وہ کھانے کے قابل نہ رہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ انسان کو اپنی عقل اور حواس کا استعمال کرنا چاہیے اور دیکھنا چاہیے کہ کہیں چیز میں سے بدبو تو نہیں آ رہی، اس کا رنگ تو نہیں بدلا یا اس پر فنگس تو نہیں لگی، اگر یہ سب نہیں ہے تو خوراک استعمال کی جا سکتی ہے۔

اسی طرح سان فرانسسکو کی فوڈ سائنٹسٹ ریچل زیمسر کا کہنا ہے کہ ڈبہ بند غذائیں جیسے مٹر، ٹماٹر، پھل، دالیں یا خشک بسکٹ اور ڈبل روٹی تاریخ گزرنے کے بعد بھی طویل عرصے تک خراب نہیں ہوتے کیونکہ ان میں نمی کم ہوتی ہے جس کی وجہ سے جراثیم آسانی سے پیدا نہیں ہوتے۔

انہوں نے کہا کہ خشک بسکٹ یا کریکرز پرانے ہونے پر شاید اپنا کرکرا پن کھو دیں اور ان کا ذائقہ تھوڑا بدل جائے، لیکن وہ آپ کو بیمار نہیں کریں گے۔ البتہ انہوں نے گوشت، مرغی اور مچھلی کے معاملے میں احتیاط کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ ان چیزوں میں نمی ہوتی ہے اس لیے تاریخ ختم ہونے سے پہلے انہیں فریز کر لینا چاہیے تاکہ وہ زیادہ عرصے تک محفوظ رہ سکیں۔

ماہرین نے یہ بھی بتایا کہ ڈبہ بند غذائیں، جیسے لوبیا، ٹماٹر، پھل اور سبزیاں، اپنی پیکنگ کی وجہ سے کئی سال تک محفوظ رہ سکتی ہیں، بشرطیکہ ان کا ڈبہ خراب یا پھولا ہوا نہ ہو۔ اسی طرح سویا اور بادام کے دودھ کے بند ڈبے بھی طویل عرصے تک استعمال کے قابل رہ سکتے ہیں۔

اس الجھن کو ختم کرنے کے لیے امریکہ کی ریاست کیلیفورنیا میں ایک نیا قانون بھی نافذ کیا گیا ہے تاکہ ڈبوں پر لکھی بے شمار تاریخوں کے بجائے صرف دو طرح کی تاریخیں لکھی جائیں، ایک تازگی کے لیے اور دوسری استعمال کی آخری حد کے لیے۔

کیلیفورنیا گروسرز ایسوسی ایشن کے ترجمان نیٹ روز نے بتایا کہ دکانوں پر لکھی تاریخیں اکثر دکانداروں کے لیے ہوتی ہیں تاکہ وہ وقت پر سامان شیلف پر لگائیں، اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہوتا کہ تاریخ کے بعد وہ کھانا زہر بن گیا ہے۔

ماہرین کے مطابق وفاقی سطح پر امریکا میں صرف بچوں کے دودھ (انفینٹ فارمولا) کے لیے ایکسپائری تاریخ لازمی قرار دی گئی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ اس میں موجود غذائیت کم ہو سکتی ہے۔

ڈونلڈ شیفنر نے کہا، بچوں کے لیے فارمولا دودھ غذائیت کا بنیادی ذریعہ ہوتا ہے، اس لیے اس کی مدت ختم ہونے کے بعد استعمال بچے کی صحت پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر چیز سے بدبو نہ آئے اور اس کی رنگت ٹھیک ہو تو اسے پھینک کر پیسے اور خوراک ضائع کرنے کے بجائے استعمال میں لایا جا سکتا ہے۔

ڈونلڈ شیفنر نے یہ بھی مشورہ دیا کہ ضرورت کے مطابق خریداری کریں اور گھر میں خوراک کو مناسب طریقے سے استعمال کریں، کیونکہ آخر کون خراب معیار کا کھانا کھانا پسند کرتا ہے؟