لال قلعے سے برطانوی پرچم اتارنے اور سزائے موت پانے والے شاہ رخ خان کے نانا کون تھے؟
بولی ووڈ کے سپر اسٹار شاہ رخ خان کو دنیا بھر میں ان کی اداکاری اور کامیاب فلموں کی وجہ سے جانا جاتا ہے، لیکن کم ہی لوگ جانتے ہیں کہ ان کے خاندان کا تعلق برصغیر کی آزادی کی تحریک سے بھی رہا ہے۔ شاہ رخ خان کی والدہ لطیف فاطمہ خان اپنے دور کی ایک تعلیم یافتہ اور بااثر خاتون تھیں جبکہ ان کے نانا یعنی شاہنواز خان انگریزوں کے خلاف آزادی کی جنگ کا ایک اہم حصہ رہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق سینئر صحافی راشد قدوائی کی کتاب ”24 اکبر روڈ“ میں بیان کیا گیا ہے کہ دوسری جنگ عظیم کے دوران شاہ نواز خان برطانوی ہند کی فوج میں خدمات انجام دے رہے تھے۔
اس زمانے میں انہیں جنوب مشرقی ایشیا میں تعینات کیا گیا تھا، جہاں وہ جاپانی افواج کے خلاف محاذ پر موجود تھے۔ بعد ازاں جنگی حالات کے دوران وہ جاپانی فوج کی قید میں چلے گئے۔
رپورٹس کے مطابق، جاپانی حکام نے شاہ نواز خان کو نیتا جی سبھاش چندر بوس کے حوالے کر دیا، جو اس وقت انڈین نیشنل آرمی (آئی این اے) کی قیادت کر رہے تھے۔
شاہ نواز خان نے سبھاش چندر بوس کے نظریات سے اتفاق کرتے ہوئے ان کی تحریک کا حصہ بننے کا فیصلہ کیا اور جلد ہی آئی این اے میں ایک اہم عہدے پر فائز ہو گئے۔ ان کا نام ان مجاہدین میں سب سے پہلے لیا جاتا ہے جنہوں نے لال قلعے سے انگریزوں کا پرچم اتارا تھا۔
جنگ کے خاتمے کے بعد برطانوی حکومت نے ان افراد کے خلاف کارروائیاں شروع کر دیں جو انڈین نیشنل آرمی سے وابستہ تھے۔ اسی سلسلے میں شاہ نواز خان اور ان کے ساتھیوں کو گرفتار کر لیا گیا۔

تاریخی حوالوں کے مطابق، ان پر بغاوت کے الزامات عائد کیے گئے اور انہیں سزائے موت سنائی گئی۔ اس مقدمے نے اس وقت برصغیر میں خاصی توجہ حاصل کی۔
اس فیصلے کے خلاف عوام میں شدید غصہ پھیل گیا اور شدید عوامی دباؤ اور قانونی کوششوں کے بعد انگریز حکومت کو اپنا فیصلہ واپس لینا پڑا اور شاہنواز خان کو رہا کر دیا گیا۔ تاہم ان پر جرمانہ عائد کیا گیا۔
آزادی کے بعد شاہ نواز خان نے عملی سیاست میں قدم رکھا اور انڈین نیشنل کانگریس میں شامل ہو گئے۔ بعد ازاں وہ میرٹھ سے تین مرتبہ لوک سبھا کے رکن بھی منتخب ہوئے۔
شاہ رخ خان کی والدہ لطیف فاطمہ خان، شاہ نواز خان کی منہ بولی یا منہ بولی بیٹی کے طور پر پرورش پانے والی شخصیت تھیں، جبکہ شاہ رخ کے والد تاج محمد خان بھی آزادی کی تحریک سے وابستہ رہے۔ اسی وجہ سے شاہ رخ خان کے خاندان کو حب الوطنی اور سماجی خدمات کے حوالے سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔

واضح رہے کہ شاہ رخ خان نے اپنے کیریئر کا آغاز انڈین ٹیلی ویژن سے کیا تھا اور 1992 میں فلم ”دیوانہ“ سے بولی ووڈ میں قدم رکھا۔ اس کے بعد انہوں نے ”دل تو پاگل ہے“، ”کچھ کچھ ہوتا ہے“، ”محبتیں“، ”دیوداس“، ”سودیش“، ”چک دے انڈیا“، ”پٹھان“ اور ”جوان“ جیسی متعدد کامیاب فلموں میں کام کیا۔ ان دنوں وہ اپنی آنے والی فلم ”کنگ“ کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔
















