حکومتی مشینری کام کیوں نہیں کر رہی؟ افسران پیسے دبا کر بیٹھے ہیں ،چیف جسٹس

اپ ڈیٹ 16 جنوری 2020 11:42am
فائل فوٹو

اسلام آباد:ورکرز ویلفیئر فنڈز کیس میں  چیف جسٹس گلزار احمد نے وفاقی حکومت پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا حکومت نے ورکرز کے لیے کتنی ہاؤسنگ کالونیاں بنائی،حکومتی مشینری کام کیوں نہیں کر رہی؟ افسران پیسے دبا کر بیٹھے ہیں ،سیروتفریح ہورہی ہے ،پورے محکمے کو ہی ختم کردیتے ہیں۔

چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3رکنی بینچ نے ورکرزویلفیئرفنڈزکیس کی سماعت کی۔

 چیف جسٹس نے وفاقی حکومت پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ پہلے کی طرح ورکرز ویلفیئر فنڈز کا اجراء آٹومیٹک ہو جانا چاہیئے،حکومتی مشینری کیوں کام نہیں کررہی خواہ مخواہ عدالت پر بوجھ پڑ گیا ، حکومت نے آج تک کوئی ورکر کالونی نہیں بنائی، افسران پیسے دبا کر بیٹھے ہیں، باہر گھوم پھر رہے ہیں لیکن کام نہیں کررہے۔

جسٹس گلزار احمد نے خبردار کیا کہ افسران نے کام نہیں کرنا تو مسئلہ کا ایک ہی حل ہے، پورے محکمے کو ہی ختم کردیں گے، ساری کمپنیوں کو سپریم کورٹ میں پیسے جمع کرنے کا حکم جاری کردیتے ہیں، خود ورکرز میں فنڈز تقسیم کردیں گے،پھر افسران بیٹھے رہیں، کیا افسران کو اس لیے بٹھایا گیا کہ تنخواہ بھی لیں اورکام نہ کریں؟۔

چیف جسٹس نے مزید کہاکہ ورکرزکےلیےکوئی ہاؤسنگ کالونیاں نظرنہیں آتی، افسران پیسہ ریلیزہی نہیں کررہے، کیا صوبوں میں تقسیم ہونے والے پیسے کا آڈٹ ہوتا ہے؟۔

وکیل پنجاب حکومت فیصل چوہدری نے قانون کے مطابق فنڈز کی تقسیم ہونے کا مؤقف اپنایا،جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل ساجد الیاس بھٹی نے بتایاکہ سندھ کے علاوہ تمام صوبوں کا پیسہ وفاق اکھٹا کرتا ہے۔

 چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ورکرز ویلفیئرفنڈز اور ای او بی آئی کا پیسہ کہیں اور استعمال نہیں ہوسکتا۔

عدالت نے سندھ اور بلوچستان حکومت سے ورکرز ویلفیئر فنڈز کے حوالے سے پیشرفت رپورٹ ، سندھ سے زیر التواء مقدمات کی تفصیلات اور فنڈز کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے  سماعت 3ہفتوں کے لیے ملتوی کردی۔