بجٹ 27-2026: سالانہ آمدنی پر ٹیکس کی شرح کم، تنخواہ و پنشن میں اضافہ، کاروباری طبقے پر سپر ٹیکس ختم

بجٹ اجلاس میں وزیراعظم شہبازشریف، چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو کے علاوہ دیگر اراکین بھی شریک ہیں۔
اپ ڈیٹ 12 جون 2026 06:16pm
🔴 LIVE: Pakistan Budget 2026-27 | Rs17.5T Outlay Expected | Special Transmission | AAJ NEWS

قومی اسمبلی میں بجٹ اجلاس جاری ہے جہاں وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب آئندہ مالی سال 27-2026 کا ساڑھے 18 ہزار ارب روپے کا وفاقی بجٹ پیش کررہے ہیں۔

جمعے کو اسپیکر سردار ایاز صادق کی زیرصدارت قومی اسمبلی کا بجٹ اجلاس جاری ہے، بجٹ اجلاس میں وزیراعظم شہبازشریف، چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو کے علاوہ دیگر اراکین بھی شریک ہیں۔

قومی اسمبلی کا بجٹ اجلاس شروع ہوتے ہی ایوان میں اپوزیشن ارکان نے ایوان میں شور شرابا کرتے ہوئے نامنظور، نامنظور کے نعرے لگائے۔ پی ٹی آئی ارکان بینرز اٹھاکر اجلاس میں شریک ہوئے جب کہ اپوزیشن ارکان نے بجٹ کی کاپیاں پھاڑ کر وزیرخزانہ محمد اورنگزیب پر پھینک دیں۔

وزیرخزانہ کی بجٹ تقریر

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بجٹ تقریر میں بتایا کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 7 فیصد اضافہ کیا جارہا ہے، ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں 7 فیصد اضافہ کرنے کی تجویز ہے جب کہ کم سے کم ماہانہ تنخواہ میں 10 فیصد اضافے کی تجویز ہے۔ کم سے کم تنخواہ پر 3 ہزار 700 روپے اضافہ کا ہوا ہے، جس کے بعد کم سے کم تنخواہ 40 ہزار 700 ہوگئی ہے۔

وفاقی حکومت نے نجکاری پروگرام کو وسعت دیتے ہوئے جینکوز، ڈسکوز، بینکوں، انشورنس کمپنیوں اور ہوائی اڈوں کی نجکاری کا فیصلہ کر لیا ہے۔ وزیر خزانہ نے بتایا کہ تین ڈسکوز کی نجکاری کے لیے اظہارِ دلچسپی کے نوٹسز بھی جاری کر دیے گئے ہیں جب کہ نجکاری کے عمل کو مرحلہ وار آگے بڑھایا جائے گا۔

وزیر خزانہ نے بتایا کہ حکومت تنخواہ دار طبقے کو ریلیف فراہم کر رہی ہے، وفاقی حکومت نے تنخواہ دار طبقے پر عائد سرچارج ختم اور ٹیکس میں ریلیف دینے کے لیے 4 سلیبز کی تجویز پیش کی ہے۔

بجٹ تجاویز کے مطابق 22 سے 32 لاکھ روپے سالانہ آمدنی پر ٹیکس کی شرح 23 سے کم کرکے 20 فیصد، 32 سے 41 لاکھ تک آمدنی پر ٹیکس کی شرح 25 فیصد، 41 سے 56 لاکھ روپے سالانہ تنخواہ پر انکم ٹیکس کی شرح 29 فیصد جب کہ 56 سے 70 لاکھ روپے سالانہ تنخواہ پر انکم ٹیکس کی شرح 32 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔

محمد اورنگزیب نے مزید بتایا کہ حکومت نے کاروباری طبقے پر عائد سپر ٹیکس ختم کردیا ہے۔

بجٹ پیش کیے جانے سے قبل وزیراعظم شہبازشریف کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا، جس میں کابینہ کی جانب سے آئندہ مالی سال کے بجٹ دستاویزات اور فنانس بل مسودے کی باقاعدہ منظوری دی گئی جب کہ وزیراعظم نے بجٹ دستاویز پر دستخط کیے۔

اجلاس میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافے پر تفصیلی غور کیا گیا، جس کے بعد ملازمین کی تنخواہوں میں 7 فیصد اور پنشن میں بھی 7 فیصد اضافے کی منظوری دی گئی۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں دو فیز میں اضافہ ہوگا، گریڈ ایک سے 16 کے ملازمین کی تنخواہوں میں زیادہ اضافہ ہوگا۔

اجلاس میں سرکاری ملازمین کے ٹیکسز 35 فیصد سے کم کر کے 29 فیصد کرنے کی منظوری دی گئی جب کہ ایک نیا سلیب بھی بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔