’نیب لوگوں کو سزائیں سنائے گا تو کیا ہم عدالتیں بند کردیں ؟‘

اپ ڈیٹ 22 جنوری 2020 11:17am
فائل فوٹو

اسلام آباد ہائی کورٹ نے سندھ روشن پروگرام کیس میں پیپلز پارٹی کے رہنماءشرجیل انعام میمن کی ضمانت میں 11فروری تک توسیع کردی۔ عدالت نے نیب پراسیکیوٹرپر برہمی کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ نیب لوگوں کو سزائیں سنائے گا تو کیا ہم عدالتیں بند کردیں ؟۔

چیف جسٹس اطہرمن اللہ کی سربراہی میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے 2رکنی بینچ نے شرجیل میمن کی ضمانت قبل ازگرفتاری کی درخواست پرسماعت کی۔

 وکیل لطیف کھوسہ نے نیب کی جانب سے ایک نیا وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کے حوالے سے عدالت کو آگاہ کیا ۔

چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیئے کہ نیب کا اختیارتحقیقات کرنا ہے لوگوں کوسزا دینا نہیں ،شرجیل میمن کو کیوں گرفتارکرنا چاہتے ہیں ، نیب کا کام پیسے ریکورکروانا نہیں ۔

 چیف جسٹس نے نیب پراسیکیوٹرپر برہمی کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ نیب لوگوں کو سزائیں سنائے گا تو کیا ہم عدالتیں بند کردیں ۔

 وکیل لطیف کھوسہ نے نیب آرڈیننس کے تحت انکوائری ختم کرنے کی درخواست بھی دینے کا بتایا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ نیب کے پاس گرفتاری کا اختیارکتنا اورکن حالات میں ہے بارباربتا چکے  ، گرفتاری کے دوران کوئی پلی بارگین پر راضی ہوتووہ پلی بارگین نہیں ہوگا ،ملزم رضاکارانہ طورپرمکمل آزادی اوراپنی مرضی سے ہی کرسکتا ہے۔

  نیب پرسیکیوٹر نے کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ موجود ہے ضمانت نیب کیس میں ایسے نہیں ہو سکتی۔

چیف جسٹس نے نیب پراسکیوٹر کو اگلی سماعت پرسپریم کورٹ کا فیصلہ دوبارہ پڑھ کر آنے کی ہدایت کرتے ہوئے شرجیل میمن کی ضمانت میں 11فروری تک توسیع دے دی۔