میکسیکو سٹی میں رنگا رنگ تقریب: فیفا ورلڈ کپ کا عالمی فٹ بال میلہ سج گیا
میکسیکو سٹی میں رنگا رنگ افتتاحی تقریب کے ساتھ فیفا ورلڈ کپ 2026 کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے، جہاں میکسیکو کی ثقافتی جھلکیاں اور فن کاروں کی شاندار پرفارمنس نے شائقین کی توجہ سمیٹ لی۔ یہ پہلا موقع ہے کہ ورلڈ کپ کا آغاز تین میزبان ممالک میں بیک وقت ہو رہا ہے، جب کہ امریکا اور کینیڈا میں بھی اپنے اپنے میچز سے قبل افتتاحی تقریبات منعقد کی جائیں گی، جسے فٹ بال تاریخ کے سب سے بڑے ایونٹس میں شمار کیا جا رہا ہے۔
افتتاحی تقریب میں معروف بین الاقوامی گلوکارہ شکیرا نے آفیشل اینتھم پر پرفارم کیا، جب کہ ان کے ساتھ برنا بوائے بھی اسٹیج پر موجود تھے اور دیگر ساتھی فن کاروں نے بھی پرفارم کیا، جس نے ایونٹ کو مزید یادگار بنا دیا۔ میگا ایونٹ کے پہلے میچ میں میزبان میکسیکو اور جنوبی افریقا کی ٹیمیں آمنے سامنے ہیں۔
اس بار ورلڈ کپ میں پہلی مرتبہ 48 ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں، جب کہ امریکا، میکسیکو اور کینیڈا مشترکہ طور پر ایونٹ کی میزبانی کر رہے ہیں۔ شیڈول کے مطابق میکسیکو اور کینیڈا 13، 13 جب کہ امریکا 78 میچز کی میزبانی کرے گا۔
اس بار کینیڈا پہلی مرتبہ ورلڈ کپ کی میزبانی کرے گا، جب کہ امریکا 1994 اور میکسیکو 1970 اور 1986 میں پہلے بھی اس ٹورنامنٹ کی میزبانی کر چکے ہیں۔
2026 کا ورلڈ کپ تاریخ کا سب سے بڑا ٹورنامنٹ ہوگا جس میں ریکارڈ 104 میچز کھیلے جائیں گے۔ یہ مقابلے 16 مختلف میزبان شہروں میں ہوں گے۔ عالمی میلہ 11 جون کو میکسیکو میں پہلے میچ سے شروع ہو کر 19 جولائی کو نیویارک میں فائنل کے ساتھ اختتام پذیر ہوگا۔
افتتاحی تقریبات تینوں ممالک میں ایک مشترکہ تھیم کے تحت منعقد ہوں گی، جس کا مقصد میزبان ممالک کو جوڑنا اور فٹ بال کے ذریعے عالمی اتحاد کا پیغام دینا ہے۔ ہر تقریب کا آغاز متعلقہ میزبان ملک کے افتتاحی میچ سے 90 منٹ پہلے ہوگا۔
تقریبات کی پروڈکشن معروف کری ایٹو ڈائریکٹر مارکو بالیچ کر رہے ہیں، جو اس سے قبل اولمپکس سمیت کئی بڑے بین الاقوامی ایونٹس کی افتتاحی تقریبات تیار کر چکے ہیں۔ اگرچہ ہر ملک کی تقریب کا انداز مختلف ہوگا، لیکن تینوں شوز ایک ہی مرکزی خیال سے جڑے ہوں گے، جو فٹبال کی وہ طاقت ہے جو سرحدوں سے ماورا ہو کر لوگوں کو جوڑتی ہے۔
ہر میزبان ملک اپنی ثقافت کو منفرد انداز میں پیش کرے گا۔ کینیڈا میں مختلف ثقافتوں کے امتزاج کو ”کلچرل موزائیک“ کے طور پر دکھایا جائے گا، میکسیکو میں روایتی آرٹ ”پاپیل پیکادو“ پیش ہوگا، جبکہ امریکہ میں جدید اور روشن انداز کو نمایاں کیا جائے گا جسے ”چمکدار اور شاندار اسٹیج شو“ کے طور پر بیان کیا جا رہا ہے۔
فیفا کے صدر جانی انفینٹینو نے اس موقع پر کہا کہ ورلڈ کپ ایک ایسا لمحہ ہے جس میں پوری دنیا شریک ہوتی ہے، اور اس کی شروعات بھی اسی اتحاد اور جوش کے ساتھ ہونی چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ، ’میکسیکو سٹی سے شروع ہو کر ٹورنٹو اور لاس اینجلس تک یہ تقاریب موسیقی، ثقافت اور فٹبال کو اس انداز میں یکجا کریں گی جو ہر ملک کی انفرادیت اور ٹورنامنٹ کی عالمی یکجہتی کو ظاہر کرے گا۔ یہ ایک عالمی جشن کا شاندار آغاز ہوگا۔‘
میکسیکو سٹی کے اسٹیڈیم میں 11 جون کو ہونے والی تقریب میں مقامی ثقافت کے رنگ بکھیرے جائیں گے اور وہاں الیجینڈرو فرنینڈس، جے بالون اور شکیرا جیسے عالمی شہرت یافتہ فنکار اپنے فن کا مظاہرہ کریں گے۔ میکسیکو سٹی میں اس دن عام تعطیل کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔
کینیڈا کے شہر ٹورنٹو میں 12 جون کو ہونے والی تقریب کینیڈا کی کثیر الثقافتی شناخت پر مبنی ہوگی جس میں ایلنیس موریٹ، الیسیا کارا اور مائیکل ببلے جیسے فنکار پرفارم کریں گے۔
اسی دن امریکہ کے شہر لاس اینجلس میں ہونے والی تقریب میں کیٹی پیری، فیوچر اور ریما جیسے بڑے نام جلوہ گر ہوں گے۔ فیفا صدر جانی انفینٹینو کے مطابق یہ فنکار امریکہ کی ثقافتی تنوع اور عالمی پاپ کلچر پر اس کے اثرات کو مدنظر رکھ کر چنے گئے ہیں۔
کینیڈا بوسنیا اینڈ ہرزیگووینا کے خلاف اپنا پہلا ہوم ورلڈ کپ میچ کھیلے گا، جبکہ امریکا کا مقابلہ پیراگوئے سے ہوگا۔
شائقین ان تقریبات اور میچوں کو مختلف براڈکاسٹ اور اسٹریمنگ پلیٹ فارمز کے ذریعے دیکھ سکیں گے، جب کہ اندازاً دو لاکھ سے زائد شائقین اسٹیڈیمز میں موجود ہوں گے۔
تاہم ایونٹ سے قبل میزبان ممالک کو کچھ چیلنجز کا سامنا بھی ہے۔ میکسیکو سٹی میں احتجاجی مظاہروں کے باعث سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے، جبکہ ٹورنٹو اور لاس اینجلس میں ٹریفک اور ہجوم کو کنٹرول کرنے کے خصوصی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔
یوں 2026 کا ورلڈ کپ تاریخ میں پہلی بار تین ممالک میں بیک وقت شاندار افتتاح کے ساتھ فٹ بال کے سب سے بڑے عالمی جشن کا آغاز کرے گا۔

















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔