عیشال فاطمہ کیس: زیادتی کی تصدیق نہیں ہوسکی، موت کی وجہ نشہ آور چیز ہونے کا خدشہ
جھنگ میں فرسٹ ایئر کی طالبہ عیشال فاطمہ کی موت کے معاملے کی تحقیقات میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ پولیس کو موصول ہونے والی ابتدائی میڈیکل ایگزامینیشن رپورٹ کے مطابق متاثرہ لڑکی کے ساتھ زیادتی کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ رپورٹ میں ابتدائی طور پر یہ خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ طالبہ کی موت کی وجہ کسی زہریلی یا نشہ آور چیز کا استعمال ہو سکتی ہے۔
پولیس ذرائع نے کیس کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا ہے کہ عیشال فاطمہ چار روز سے لاپتہ تھیں۔ پیر کو کچھ نامعلوم افراد انہیں انتہائی تشویش ناک اور بے ہوشی کی حالت میں ایک گاڑی کے ذریعے جھنگ کے ایک نجی اسپتال میں چھوڑ کر فرار ہو گئے تھے۔
اسپتال انتظامیہ نے طالبہ کو فوری طور پر ابتدائی طبی امداد فراہم کی لیکن حالت زیادہ خراب ہونے کی وجہ سے انہیں فوری طور پر ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال جھنگ منتقل کیا گیا، جہاں وہ علاج کے دوران دم توڑ گئیں۔
واقعے کے بعد پولیس نے جب تحقیقات شروع کیں تو ایک سی سی ٹی وی فوٹیج بھی منظر عام پر آئی، جس میں عیشال فاطمہ کو انتہائی خراب حالت میں نجی اسپتال لاتے ہوئے دیکھا گیا۔
اس واقعے کے بعد تفتیشی اداروں نے شواہد، بیانات اور دستیاب سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے چار ملزمان کو نامزد کیا، جن میں سے تین ملزمان حسیب، امیش اور حسن اس وقت پولیس کی حراست میں ہیں جبکہ چوتھے ملزم خلیل کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
پولیس حکام نے بتایا ہے کہ عیشال فاطمہ کے معدے سے حاصل کیے گئے نمونے مزید گہرے تجزیے کے لیے لاہور میں پنجاب فرانزک سائنس لیبارٹری بھجوا دیے گئے ہیں تاکہ اصل حقائق سامنے آ سکیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ فرانزک رپورٹ آنے کے بعد ہی موت کی اصل اور حتمی وجہ کا پتہ چل سکے گا اور اس رپورٹ کے موصول ہونے کے بعد حقائق کی روشنی میں مزید سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
















