کشمیر ہمارے لیے وہی حیثیت رکھتا ہے جو پاکستان کےلیے رکھتا ہے،ترک صدر
فائل فوٹواسلام آباد:ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ کشمیر بھی ترکی کے لیے وہی حیثیت رکھتا ہے جو پاکستان کے لیے رکھتا ہے، پاکستان آکر خود کو کبھی اجبنی محسوس نہیں کیا۔
پارلیمنٹ کے تاریخی مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ترک صدررجب طیب اردوان نے کہا کہ ارکان پارلیمنٹ کومحبت کےساتھ سلام پیش کرتاہوں،مشترکہ اجلاس سے خطاب باعث فخر ہے،پاکستانی عوام نےگرم جوشی سےمیرااستقبال کیا۔
رجب طیب اردوان نے کہا کہ پاکستانی عوام کی محبت اور مہمان نوازی کادل کی گہرائیوں سےشکرگزارہوں،یہاں آکر خود کو کبھی اجنبی محسوس نہیں کرتا، پاکستان آکر لگا کہ اپنے گھرمیں ہی ہوں،ترک عوام پاکستان کواپناگھر تصورکرتے ہیں،پاک ترک تعلقات قابل رشک ہیں۔
ترک صدر نے تحریک خلافت کا نہایت محبت سے تذکرہ کرتے ہوئے مولانامحمد علی جوہراورمولانا شوکت علی جوہر کی خدمات کو سراہا اورکہا کہ وہ نہیں بھولے،اسد اللہ غالب اورمولانا محمد علی جوہرمشترکہ قابل احترام ہستیاں ہیں،جوہربرادران اورغالب نےتحریک خلافت کے لیے بھرپورآوازبلندکی۔
رجب طیب اردوان نے کہا کہ دونوں ممالک کی قیادت کویکجاکرنےپراللہ کاشکرگزارہوں،پاکستانیوں نےاپناپیٹ کاٹ کرترکی کی آزادی کی تحریک میں مدد کی،جب ترک مشکل میں تھےتوبرصغیر کے لوگوں نے قربانیاں دیں،عورتوں نے اپنے ہاتھوں کے کنگن تک نچھاور کردیئے،شدیددباؤکےباوجودترک بھائیوں کاساتھ دینےوالوں کوکیسےبھول سکتے ہیں،اگرہم آپ سےمحبت نہیں کریں گےتوکس سے کریں گے؟ہم ترکی کے لیے سجدے میں دعائیں کرنے والوں کوکیسے فراموش کر سکتے ہیں، پاکستان کے ساتھ تعلقات ہمیشہ قائم رہیں گے، ہمارا پاکستان کے ساتھ دل کا رشتہ ہے۔
اپنے خطاب میں ترک صدر نے مزید کہا کہ ہماری دوستی مفاد پرمبنی نہیں،عشق اورمحبت سےپروان چڑھی ہے،پاکستان کا دکھ درد، ہمارا دکھ درد ہے ،پاکستان کی کامیابی،ہماری کامیابی وکامرانی ہے،پاکستان نےہمیشہ ترکی کے مؤقف کی حمایت کی،اے اللہ،ہمارےتعلقات اوردوستی کوقائم ودائم فرما۔
رجب طیب اردوان کا کہنا تھا کہ ماضی کی طرح مستقبل میں بھی پاکستان کی حمایت کرتےرہیں گے،انسداد دہشت گردی کےلیےپاکستان کےساتھ تعاون جاری رکھیں گے،کوئی سرحداورفاصلہ ہمارے دلوں میں دیوارحائل نہیں کرسکتا۔
ترک صدر رجب طیب اردوان نے مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے مؤقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ مسئلہ کشمیر کو پُرامن طریقے سے حل کیا جائے، کشمیر ہمارے لیے بھی وہی ہے جو آپ کے لیےہے،کشمیرکی حیثیت وہی ہے،جوہمارے لیے چناقلعے کی تھی ،کشمیریوں کو سالوں سے مشکلات کا سامنا ہے،حالیہ بھارتی اقدام سے کشمیریوں کو مزید مشکلات میں اضافہ ہوا۔
ترک صدر کا مزید کہنا تھا کہ ترکی مسئلہ کشمیر کو مذاکرات کے ذریعے حل کا خواہش مند ہے،جنرل اسمبلی میں مسئلہ کشمیرکی حساسیت سےدنیاکوآگاہ کیا،ترکی مسئلہ کشمیرکو امن اورامن کے ذریعے حل کرنے کے فیصلے پر قائم ہے،پاکستان کا بھرپور ساتھ دینے کا سلسلہ جاری رکھیں گے،اللہ رب العزت ہم سب کا حامی وناصر ہو۔
رجب طیب اردوان نے مطالبہ کیا کہ مسئلہ کشمیرجبری پالیسیوں سے نہیں انصاف سے حل کیا جائے۔
ترکی کے صدر نے اپنے خطاب میں کہا کہ اقوام عالم نےشامی پناہ گزینوں کوبےیارومددگارچھوڑدیاہے ،ترکی اپنے 40لاکھ شامی مظلوم بہن بھائیوں کی مدد میں مصروف ہے، ترکی کا اصل ہدف مسلمانوں کے آنسو پونچھنا ہے،ہم شامی پناہ گزینوں کی دیکھ بھال کررہے ہیں۔
رجب طیب اردوان نے مزید کہا کہ فلسطین اورکشمیرسمیت دیگرتنازعات کاپرامن حل ضروری ہے، قبلہ اول پراسرائیلی حملوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے،القدس سےمتعلق امریکی اقدامات امن منصوبہ نہیں،مشرق وسطیٰ میں امن کےلیے ٹرمپ کا منصوبہ اصل میں بیت المقدس پر قبضے کا امریکی منصوبہ ہے، بیت المقدس کودنیا کے رحم وکرم پرنہیں چھوڑاجاسکتا۔
ترک صدر رجب طیب اردوان کا کہنا تھا کہ پاکستان معاشی ترقی اور خوشحالی کی جانب گامزن ہے ،ترقی ایک دن میں نہیں بلکہ مسلسل جدوجہد سے ہوسکتی ہے، ایف اے ٹی ایف میں دباؤ کے باوجود پاکستان کی حمایت کا یقین دلاتے ہیں۔
قبل ازیں اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے اجلاس سے خطاب میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ مسلم آبادیوں کو اسلامو فوبیہ جیسی حقارت آمیزمذہبی منافرت کا سامنا ہے، بھارت نے جس انداز سے مقبوضہ کشمیر کو اپنی نوآبادی میں تبدیل کیا ، مہذب دنیا میں اِس کی مثال نہیں ملتی، جس مردِ مجاہد نے بے باکی سے کشمیریوں کی ترجمانی کی وہ ترک صدر کی ذات گرامی ہے، دو ٹوک موقف پریہ ایوان، اہلِ کشمیر اوراہل پاکستان آپ کو اور آپ کی قوم کو سلام پیش کرتے ہیں۔
اس سے قبل پارلیمنٹ کامشترکہ اجلاس اسپیکرقومی اسمبلی اسد قیصر اورچیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی زیرصدارت ہوا،اجلاس کاآغازتلاوت قرآن پاک سےہوا۔
ترک صدر رجب طیب اردوان پارلیمنٹ پہنچے تو وزیراعظم عمران خان نے ان کا ریڈ کارپٹ استقبال کیا۔
ترک صدر کا اراکین پارلیمنٹ نے تالیاں بجا کر استقبال کیا، اراکین معزز مہمان کے احترام میں کھڑے ہوگئے، پارلیمنٹ میں پہلے ترکی اور پھر پاکستان کا قومی ترانہ بجایا گیا۔
ترک صدر رجب طیب اردوان اپنی اہلیہ کے ہمراہ پارلیمنٹ ہاؤس پہنچے، وزیراعظم عمران خان نے ترک صدر کا استقبال کیااور انہیں لے کر ایوان میں داخل ہوئے۔
اس موقع پر پارلیمنٹ کو پاکستان اور ترکی کے جھنڈوں سے سجایا گیا جبکہ گیلریز کو گلدستوں سے مزین کیا گیا ہے۔
پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں ترک صدررجب طیب اردوان کے علاوہ صدرمملکت ڈاکٹرعارف علوی اور وزیراعظم عمران خان شریک ہوئے۔
مشترکہ اجلاس میں ارکان قومی اسمبلی اورسینیٹرزچاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ، گورنرز، آزاد کشمیر کے صدر، وزیراعظم اور اسپیکر، غیر ملکی سفیر، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی اورتینوں مسلح افواج کےسربراہان نے بھی شرکت کی۔
بعدازاں پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس غیر معینہ مدت تک کے لیے ملتوی کردیا گیا۔
ترک صدر نمازجمعہ فیصل مسجد میں ادا کریں گے، مہمان صدر مقامی ہوٹل میں بزنس کانفرنس سے خطاب کریں گے، رجب اردوان سہ پہر کو وزیراعظم ہاؤس پہنچیں گے، وزیراعظم سے ترک صدر کی ون آن ون ملاقات ہوگی۔
پاکستان اور ترکی کے درمیان وفود کی سطح پر مذاکرات ہوں گے مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط ہوں گے۔
وزیراعظم عمران خان کی جانب سے معزز مہمان کے اعزاز میں عشائیہ دیا جائے گا، ترک صدر دورہ مکمل کرکے رات 8بجے وطن واپس روانہ ہوجائیں گے۔
















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔