صدر ٹرمپ کی مزید حملوں کی دھمکیوں پر ایرانی صدر کا رد عمل سامنے آگیا

ایران کسی بھی دباؤ یا دھمکی کے سامنے ڈٹ کر کھڑا رہے گا: مسعود پزشکیان کا سوشل میڈیا پر بیان
اپ ڈیٹ 10 جون 2026 11:33pm

ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مزید حملوں کی دھمکیوں کے بعد رد عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کسی بھی دباؤ یا دھمکی کے سامنے ڈٹ کر کھڑا رہے گا، ہمیں اپنے قومی اتحاد اور ماہرین کی صلاحیتوں پر ناز ہے، بجلی اور پانی کے ذخائر کو تباہ کرنا بوکھلاہٹ ہے جو کسی قوم کے ڈٹ جانے پر ہوتی ہے۔

بدھ کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حملوں کے اعلان کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا ردعمل بھی سامنے آگیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کسی بھی قسم کے دباؤ، دھمکی یا جارحیت کے سامنے سر نہیں جھکائے گا اور اپنے قومی مفادات کا دفاع جاری رکھے گا۔

ایرانی صدر نے ایرانی بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیوں کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ امریکا بوکھلاہٹ کا شکار ہے، بنیادی انفرا اسٹرکچر لوگوں کی زندگی ہوتا ہے، ٹرانسپورٹریشن نیٹ ورک، بجلی اور پانی کے ذخائر کو تباہ کرنا طاقت کا مظاہرہ نہیں ہے بلکہ یہ وہ بوکھلاہٹ ہے جو کسی قوم کے ڈٹ جانے پر ہوتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران کو اپنے قومی اتحاد اور ماہرین کی صلاحیتوں پر ناز ہے، ہم کسی سے ڈرنے والے نہیں ہیں۔

ایران کی مجلس شوری کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے بھی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حملوں کی دھکمیوں پر جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہم شکست خوردہ لوگوں سے لڑنے سے نہیں ڈرتے، اس بار امریکیوں کی میتیں پہلے سے زیادہ اٹھیں گی، اب ہم صرف خطے تک محدود نہیں رہیں گے، ہم بھی دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور ایران کی مجلس شوری کے سربراہ ابراہیم عزیزی کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ اگر ایران کے ساتھ معاہدے پر پیش رفت نہ ہوئی تو امریکا ایران کے خلاف مزید سخت کارروائیاں کر سکتا ہے۔

امریکی صدر نے بدھ کے روز کہا تھا کہ ان کی انتظامیہ ایران پر ”بہت سخت حملے“ کرنے کے لیے تیار ہے جب کہ انہوں نے ایرانی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کے امکان کو بھی مسترد نہیں کیا تھا۔

ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ دنوں میں کشیدگی میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے جب کہ دونوں ممالک کے رہنماؤں کی جانب سے سخت بیانات کا تبادلہ بھی جاری ہے۔