کاکروچ پارٹی کے مظاہرین کی گرفتاریاں، حکومت سے نئے مذاکرات میں کیا ہوا؟

ابھیجیت دیپکے کی قیادت میں چلنے والی اس تحریک کا آغاز ایک طنزیہ مہم کے طور پر ہوا تھا، جبکہ اس کے اہم مطالبات میں وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کا استعفا بھی شامل تھا۔
شائع 28 جولائ 2026 09:53am

کاکروچ جنتا پارٹی نے حکومت کے نمائندوں کے ساتھ رات گئے ہونے والے مذاکرات کے بعد دعویٰ کیا ہے کہ احتجاج میں شامل کسی بھی شخص کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا اور مختلف ریاستوں میں مظاہرین کے تحفظ کے لیے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کیے جائیں گے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ مظاہرین کے خلاف درج مقدمات واپس لینے، گرفتار افراد کو رہا کرنے اور آئندہ ان کے خلاف کارروائی نہ کرنے کے وعدوں پر عمل کیا جائے گا۔

سی جے پی کے چیف ترجمان سورَو داس نے رات ایک بجے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ حکومت کے نمائندوں سے دو سے تین گھنٹے تک تفصیلی ملاقات ہوئی۔ ان کے مطابق حکومت نے بہار اور آسام کی جانب سے جاری کیے گئے نوٹیفکیشنز کی نقول بھی فراہم کیں، جن میں مظاہرین کے خلاف درج ایف آئی آر واپس لینے، مستقبل میں ان کے خلاف کارروائی نہ کرنے اور تمام گرفتار افراد کو رہا کرنے کی یقین دہانی شامل ہے۔

سورَو داس نے کہا کہ حکومت نے اس بات کا بھی اعادہ کیا ہے کہ مرکزی حکومت اور دیگر بی جے پی اور این ڈی اے کے زیرِ انتظام ریاستوں میں بھی اسی نوعیت کے نوٹیفکیشن جاری کیے جائیں گے تاکہ مظاہرین کو قانونی کارروائی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ انہوں نے کہا کہ امید ہے کہ وہی الفاظ استعمال کیے جائیں گے جن پر دونوں فریقوں کے درمیان اتفاق ہوا ہے۔ ان کے مطابق پارٹی اس بات کو یقینی بنانا چاہتی ہے کہ کسی بھی مظاہرین کو اکیلا نہ چھوڑا جائے۔

مذاکرات کے بعد جاری ایک ویڈیو پیغام میں سورَو داس نے کہا کہ پارٹی قیادت نے حکومت کو اپنے خدشات سے آگاہ کیا تھا کہ کہیں مذاکرات کے دوران کیے گئے وعدے عملی طور پر پورے نہ کیے گئے تو کیا ہوگا۔ ان کے مطابق اس کے جواب میں حکومت نے بہار کے محکمہ داخلہ کا پریس نوٹ پیش کیا، جس میں مظاہرین کے خلاف تمام مقدمات واپس لینے اور آئندہ ان کے خلاف کوئی کارروائی نہ کرنے کا ذکر کیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ملاقات میں اس بات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا کہ دیگر ریاستیں بھی ایسے ہی نوٹیفکیشن جاری کریں تاکہ احتجاج میں شریک افراد کو کسی قسم کی قانونی مشکل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ مختلف ریاستوں میں ان خدشات کو دور کرنے کے لیے نوٹیفکیشن جلد جاری کیے جائیں گے اور مستقبل میں مظاہرین کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوگی۔

سورَو داس نے کہا کہ سی جے پی احتجاج میں شریک تمام افراد کے تحفظ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔ ان کے مطابق پارٹی اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کرے گی کہ ملک کے کسی بھی شہر میں احتجاج میں حصہ لینے والے کسی شخص کے خلاف قانونی کارروائی نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی پہلے دن سے مظاہرین کے ساتھ کھڑی ہے اور آئندہ بھی ان کا ساتھ دیتی رہے گی۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی جب اس سے چند گھنٹے قبل سی جے پی نے خبردار کیا تھا کہ اگر مظاہرین کے تحفظ سے متعلق معاہدے پر عمل درآمد نہ ہوا تو وہ دوبارہ احتجاج شروع کر سکتی ہے۔

ابھیجیت دیپکے کی قیادت میں چلنے والی یہ تحریک، جس کا آغاز ایک طنزیہ مہم کے طور پر ہوا تھا، دہلی کے جنتر منتر پر 37 روز تک جاری رہنے والے احتجاج کے بعد ہفتے کے آخر میں ختم ہوئی تھی۔ پارٹی کے اہم مطالبات میں شامل مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے بعد احتجاج ختم کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔

پیر کے روز سی جے پی کے ترجمان آشوتوش رانکا نے الزام لگایا تھا کہ مذاکرات کے دوران دی گئی یقین دہانیوں کے باوجود ملک کے بعض حصوں میں مظاہرین کے خلاف پولیس کارروائیاں جاری ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بہار اور مغربی بنگال میں متعدد طلبہ کو گرفتار کیا گیا جبکہ دہلی اور دیگر ریاستوں میں کئی افراد نگرانی اور ہراسانی کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا تھا کہ تمام مقدمات فوری طور پر واپس لیے جائیں، گرفتار طلبہ کو رہا کیا جائے اور آئندہ کسی بھی مظاہرین کے خلاف نئے مقدمات درج نہ کیے جائیں، بصورت دیگر پارٹی دوبارہ احتجاج شروع کرنے پر مجبور ہوگی۔

بعد ازاں پیر کی شب سورَو داس نے راجستھان کے حوالے سے بھی ایک نئی یقین دہانی کا ذکر کیا۔ ان کے مطابق بہار اور آسام کے بعد انہیں یہ یقین دہانی بھی کرائی گئی ہے کہ راجستھان میں مظاہرین کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی، نہ کوئی ایف آئی آر درج ہوئی ہے اور نہ ہی آئندہ درج کی جائے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ پارٹی مسلسل کوشش کر رہی ہے کہ دیگر بی جے پی اور این ڈی اے کے زیرِ انتظام ریاستیں بھی ایسے واضح نوٹیفکیشن جاری کریں جن سے احتجاج میں شریک افراد کے حقوق اور تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔ تاہم حکومت کی جانب سے ان تمام دعوؤں پر باضابطہ تفصیلی ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ سی جے پی کا کہنا ہے کہ وہ صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے اور وعدوں پر عمل درآمد کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔