صدر ٹرمپ نے ایران پر آج مزید سخت حملے کرنے کا اعلان کردیا

ایران کے ساتھ جاری مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے کے باعث امریکا دوبارہ ایران پر سخت حملے شروع کرے گا: امریکی صدر
اپ ڈیٹ 10 جون 2026 11:21pm

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آج ایران پر مزید سخت حملے کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے کے باعث امریکا دوبارہ ایران پر سخت حملے شروع کرے گا۔ یہ اعلان اس وقت سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی کے باوجود ایک جانب خطے میں ایک دوسرے پر حملوں کے ساتھ ساتھ پسِ پردہ مذاکرات کے لیے بھی کوششیں جاری ہیں۔

بدھ کو وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا ایران پر دوبارہ حملے کرے گا اور یہ حملے ’بہت سخت‘ ہوں گے۔ صدر ٹرمپ سے سوال کیا گیا کہ کیا امریکا دوبارہ بمباری مہم شروع کرے گا، جس پر امریکی صدر نے جواب دیا کہ حالیہ صورت حال اور ہیلی کاپٹر واقعے کے تناظر میں امریکا کو کارروائی کا حق حاصل ہے۔

امریکی صدر کے مطابق ایران نے مبینہ طور پر آبنائے ہرمز کے قریب ایک امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر کو نشانہ بنایا اور اسی وجہ سے ممکنہ جوابی کارروائی زیر غور ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کو اب ڈیل پر دستخط کر دینے چاہیے اس کے لیے اچھی ڈیل ہے وہ ایٹمی ہتھیار نہیں رکھ سکتا۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ ہم نے پاکستان کی درخواست پر ایران کے خلاف کارروائی روکی تھی، پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے کہنے پر جنگ بندی کی، میں نے پاکستان اور بھارت کے درمیان بھی جنگ بندی کروائی تھی۔

انہوں نے مزید کہا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف میرے بہت اچھے دوست ہیں، وہ دونوں ابھی بھی جنگ روکنے کے لیے کام کر رہے ہیں، ہم ایران کے ساتھ ایک بامقصد معاہدہ چاہتے ہیں، سابق امریکی صدر اوباما نے معاہدہ کر کے ایران کو ایٹمی ہتھیاروں کا راستہ دکھایا تھا لیکن ہم ایسا معاہدہ چاہتے ہیں کہ تہران کا ایٹمی ہتھیار کا راستہ رک جائے، ہم ڈیل کے قریب تھے لیکن ایران میں بے وقوف لوگ بیٹھے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ میں مشرق وسطیٰ اور دنیا بھر میں امن چاہتا ہوں، ایران رک رہا ہے دیکھتے ہیں معاملات کہاں جاتے ہیں، تہران ایٹمی ہتھیار نہ بنانے پر آمادہ ہوگیا تھا، اس کو اب ایک اچھی ڈیل کر لینی چاہیے۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران پر کل کی طرح آج بھی حملے کریں گے، ایران ہمیں مسلسل الجھا رہا ہے، یہ نہیں بتاؤں گا کہ ایران کے پل اور پاور پلانٹس کو نشانہ بنائیں گے یا نہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران سے بات چیت مکمل ہو چکی ہے صرف معاہدے پر دستخط کرنے ہیں، تہران کو صرف اتنا کرنا ہے معاہدے کی دستاویز پر دستخط کر دے، اس کو ایٹمی ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، ہم ڈیل کے قریب ہیں لیکن تہران معاملے کو ٹال رہا ہے۔

امریکی صدر نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران سے لاکھوں لاکھ بیرل تیل نکال رہے ہیں، اسی وجہ سے تیل کی قیمت 90 ڈالر فی بیرل تک ہے، ورنہ 250 ڈالر فی بیرل ہوتی۔

صدر ٹرمپ نے سیکیور امریکا بل پر دستخط کردیے اور کہا کہ کہ اب کوئی غیرقانونی طور پر امریکا نہیں آسکے گا۔

ایران کو مذاکرات میں تاخیر کی بھاری قیمت چکانا ہوگی: صدر ٹرمپ

قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں دعویٰ کیا کہ ایران کے پاس عملاً اب کوئی بحری یا فضائی فوج موجود نہیں، ان کی فوج مکمل طور پر تباہ ہوچکی ہے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز سے امریکا کی مرضی کے بغیر کوئی جہاز نہیں گزر سکتا ہے۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران نے امریکا کے ساتھ معاہدے میں بہت تاخیر کردی ہے، یہ معاہدہ اس کے لیے فائدہ مند ہو سکتا تھا مگر ایران صرف باتیں کرتا ہے، عمل نہیں کرتا۔

امریکی صدر نے اپنے بیان میں ایک بار پھر دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ ایران نے معاہدے تک پہنچنے میں بہت زیادہ وقت لے لیا ہے، جس کی اسے بھاری قیمت چکانا ہوگی۔

فاکس نیوز سے وابستہ صحافی کے مطابق صدر ٹرمپ کے ساتھ ٹیلی فونک انٹرویو کے دوران مختلف اسٹریٹیجک معاملات اور علاقائی صورت حال پر گفتگو ہوئی، جس میں ایران کے خلاف جاری کارروائیوں اور ممکنہ مستقبل کے اقدامات کا ذکر بھی آیا۔

صدر ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے سخت اور جارحانہ مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایران نے معاہدہ نہ کیا تو وہ ایران میں توانائی کے مراکز اور پلوں کو نشانہ بنانے کے لیے مزید حملوں کا حکم دے سکتے ہیں۔

فاکس نیوز کے مطابق صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کو معاہدہ کرنے اور اپنے تحفظ کا موقع ملا تھا، تاہم اب اسے ممکنہ طور پر مزید کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے کیوں کہ وہ مذاکرات میں سستی دکھا رہا ہے۔

واضح رہے کہ پیر کے روز امریکا کا ’اپاچی‘ نامی جدید ترین ہیلی کاپٹر آبنائے ہرمز کے قریب عمان کے ساحل کے پاس گر کر تباہ ہوا تھا۔ امریکا نے الزام عائد کیا تھا کہ ہیلی کاپٹر ایرانی ڈرون سے ٹکرانے کے باعث تباہ ہوا اور سمندر میں جا گرا۔

صدر ٹرمپ نے فاکس نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکی فوج کے دو پائلٹس ’اپاچی ہیلی کاپٹر‘ میں موجود دونوں پائلٹس کو سمندری ڈرون کے ذریعے محفوظ طریقے سے ریسکیو کیا گیا ہے اور ایسا امریکی فوجی تاریخ پہلی بار ہوا ہے۔

امریکی افواج نے رات گئے جنوبی ایران پر شدید فضائی اور میزائل حملے کیے، جسے ’اپاچی‘ ہیلی کاپٹر کو گرائے جانے کا بدلہ قرار دیا جارہا تھا۔ امریکی حملوں کے جواب میں تہران نے بھی بحرین اور اردن میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر حملے کیے ہیں۔

ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے اس کارروائی کے بعد بیان دیا ہے کہ اگر امریکا خطے میں محفوظ رہنا چاہتا ہے تو وہ یہاں سے نکل جائے، جب کہ امریکی صدر ٹرمپ نے وارننگ دی ہے کہ مذاکرات میں تاخیر اور ان حملوں کی ایران کو بڑی قیمت چکانی پڑے گی۔