عزیزمیمن قتل: صحافیوں کا پریس گیلری سے واک آؤٹ

شائع 17 فروری 2020 04:39pm

سندھ میں صحافی عزیزمیمن کے بہیمانہ قتل پرصحافیوںنے پریس گیلری سے واک آؤٹ کردیا۔ معاملے پر حکومتی اور اپوزیشن رہنماؤں میں گرما گرمی ہوئی۔شیریں مزاری نے جے آئی ٹی بنانے کو کہا تو راجا پرویز اشرف بولے آپ سندھ حکومت کو یہاں سے ڈکٹیٹ نہیں کر سکتے۔فواد چوہدری بولے سندھ حکومت پر الزام ہے وہ کیسے تحقیقات کرے گی ۔ بلاول بھٹو زرداری کے ٹرین مارچ کی عزیزمیمن کے قتل سے کڑیاں جڑی ہیں۔

قومی اسمبلی کے اجلاس میں صحافی عزیز میمن کے قتل پرصحافیوں نے پریس گیلری سے واک آؤٹ کر دیا ۔ شیریں مزاری نے معاملہ ایوان میں اٹھایا تو بحث لمبی ہو گئی۔

شیریں مزاری  نے کہا کہ صحافی چاہتے ہیں اسپیکر خود جے آئی ٹی تشکیل دیں۔جس پر اسپیکر اسد قیصر نے راجا پرویز اشرف سے پوچھا کیا ہم جے آئی ٹی بنائیں۔اس پر راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ آپ سندھ حکومت کو یہاں سے ڈکٹیٹ نہیں کر سکتے۔

اسپیکرقومی اسمبلی نے کہا صوبے میں وفاق جے آئی ٹی بنا سکتا ہے یا نہیں وزارت قانون سے رائے لیکرحتمی فیصلہ کروں گا۔

وفاقی وزیرفواد چوہدری نے کہا کہ سندھ حکومت پر الزام آرہا ہے وہ کیسے تحقیقات کرے گی ، قتل کا پس منظر ہے۔ بلاول بھٹوزرداری کے ٹرین مارچ کی عزیز میمن کے قتل سے کڑیاں جڑی ہیں۔عزیز میمن کے مرنے سے پہلے بیان  کوبنیاد بنایا جائے۔

ایم کیو ایم کے رکن صلاح الدین کا کہنا تھا کہ وہ سندھ حکومت کی تحقیقات نہیں مانتے۔ جو وزیراعلی اپنی ایم پی اے کو قتل ہونے سے نہ بچا سکا وہ تحقیقات کرا سکے گا۔

اجلاس میں صحافی کے قتل پر جے آئی ٹی بنانے کے معاملے پرتنازعہ بڑھا تواسپیکراسد قیصرنے کہا کہ کسی کوغلط زبان استعمال نہیں کرنے دوں گا۔

پیپلزپارٹی کے آغا رفیع اللہ نے کورم کی نشاندہی کی گنتی پرارکان کی مطلوبہ تعداد پوری نہ ہونے پراجلاس غیرمعینہ مدت  کےلئے ملتوی کردیا گیا۔